کوئٹہ کے نواحی علاقے سنجدی میں کوئلے کی کان میں دھماکے کے بعد ریسکیو آپریشن جاری ہے۔
اس حادثے میں 12 کانکن 4 ہزار فٹ گہرائی میں پھنس گئے تھے، جن میں سے اب تک 4 کانکنوں کی لاشیں نکال لی گئی ہیں۔ تاہم، امدادی کارروائیوں میں مشکلات درپیش ہیں اور باقی 8 مزدوروں کو نکالنے کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔چیف مائنز انسپکٹر نے بتایا کہ کوئلے کی کان میں دھماکے کے بعد کان کا ایک حصہ بیٹھ گیا تھا، جس سے کانکن 4 ہزار فٹ گہرائی میں پھنس گئے۔ ریسکیو ٹیموں نے 3600 فٹ تک ملبہ نکال کر راستہ کلیئر کر لیا ہے اور امید کی جا رہی ہے کہ جلد ہی باقی کانکنوں تک رسائی حاصل کر لی جائے گی۔یہ حادثہ بلوچستان میں کوئلے کی کانوں میں ہونے والے حادثات کی ایک اور مثال ہے، جہاں اکثر حفاظتی معیار کی خلاف ورزی کی جاتی ہے اور مزدور خطرناک حالات میں کام کرنے پر مجبور ہیں۔
گزشتہ سال 46 حادثات میں 82 کان کن جاں بحق ہوئے تھے۔ جون 2023 میں بھی سنجدی کے علاقے میں کوئلے کی کان میں گیس بھرنے کے باعث 11 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔پاکستان کے ہیومن رائٹس کمیشن کی ایک رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی کہ بلوچستان کی کوئلے کی کانوں میں حفاظتی معیارات پر شاذ و نادر ہی عمل درآمد کیا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں اکثر اوقات سنگین حادثات پیش آتے ہیں۔