اسرائیلی فوج کے ترجمان نے ان رپورٹس کی تردید کی ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ اسرائیلی فوجی دمشق سے 25 کلومیٹر کی دوری پر پہنچ چکے ہیں۔
ترجمان کے مطابق اسرائیلی فوج بفر زون کی حدود سے باہر نہیں گئی ہے اور تمام کارروائیاں مقررہ حدود میں رہ کر کی جا رہی ہیں۔
پس منظر
سیرین آبزرویٹری کے مطابق، اسرائیل نے بشار الاسد کی حکومت کے زوال کے بعد شام پر 310 حملے کیے ہیں۔ حالیہ دنوں میں یہ رپورٹس سامنے آئیں کہ اسرائیلی ٹینک گولان کی پہاڑیوں کے بفر زون سے باہر نکل کر دمشق کے قریب پہنچ چکے ہیں، جس پر اسرائیل نے وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس کے اقدامات محدود اور عارضی نوعیت کے ہیں اور یہ صرف اسرائیلی شہریوں کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے ہیں۔
اقوام متحدہ میں اسرائیلی موقف
اقوام متحدہ میں اسرائیلی مندوب ڈینی ڈینن نے سلامتی کونسل کو ایک خط میں لکھا کہ یہ اقدامات شامی سرحد کے قریب غیر فوجی علاقے میں ممکنہ خطرات سے نمٹنے اور مقبوضہ گولان ہائیٹس کے رہائشیوں کی حفاظت کے لیے کیے جا رہے ہیں۔ اسرائیل نے اس بات کی وضاحت بھی کی کہ وہ شام میں مسلح گروہوں کی لڑائی میں مداخلت نہیں کر رہا بلکہ یہ کارروائیاں اپنی سلامتی کے تحفظ کے لیے ہیں۔
شامی اپوزیشن کی پیش رفت
شامی اپوزیشن کی تحریک میں پیش رفت کے طور پر، اہم رہنما محمد البشیر کو عبوری انتظامیہ کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ باغی رہنما ابو محمد الجولانی نے جنگی جرائم میں ملوث سیکیورٹی اور فوجی افسران کے احتساب کا اعلان کیا اور معلومات فراہم کرنے والے کو انعام دینے کی پیش کش کی ہے۔
سعودی عرب کا ردعمل
سعودی عرب نے اس صورتحال پر ردعمل دیتے ہوئے اسرائیل پر الزام لگایا ہے کہ اس نے بفر زون پر قبضہ کرکے شام کی سلامتی کو نقصان پہنچایا ہے۔ سعودی عرب نے اس اقدام کو خطے میں کشیدگی بڑھانے کا سبب قرار دیا ہے۔یہ صورتحال اسرائیل اور شام کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور خطے کی مجموعی سلامتی کے لیے ایک سنگین چیلنج کی عکاسی کرتی ہے۔