شہدا اور لاپتا کارکنان کے اہلخانہ کو ہراساں کیا جارہا ہے، زرتاج گل

شہدا اور لاپتا کارکنان کے اہلخانہ کو ہراساں کیا جارہا ہے، زرتاج گل

پی ٹی آئی کی رکن قومی اسمبلی زرتاج گل نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ڈی چوک پر شہید اور لاپتا کارکنان کے اہل خانہ کو ہراساں کیا جا رہا ہے۔

 انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کی داخلہ کمیٹی کے اجلاس میں انہوں نے سب سے پہلے سوال کیا تھا کہ ڈی چوک پر گولی کس کے حکم پر چلائی گئی؟ زرتاج گل نے کہا کہ یہ سب سے بڑا مسئلہ ہے کہ نہتے لوگوں پر گولی کیوں چلائی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ قومی ترانہ پڑھنے والوں پر آپریشن کرنے کی وجہ اور 12 گھنٹے بجلی بند کرنے کی وضاحت بھی ضروری ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ان کی کوشش تھی کہ یہ سوالات ٹیبل پر نہ آئیں، اس لئے اجلاس کی جگہ تبدیل کی گئی تاکہ میڈیا وہاں نہ پہنچ سکے۔ ان کا دوسرا سوال تھا کہ حکومت مسنگ پرسنز اور شہداء کی لسٹ فراہم کرے تاکہ یہ معاملہ واضح ہو سکے کہ کتنے لوگ شہید ہیں اور کتنے لاپتا ہیں۔زرتاج گل نے کہا کہ پی ٹی آئی کے بارہ کارکن شہید ہوئے ہیں اور سیکڑوں لاپتا ہیں، جن کی فیملیز کو ہراساں کیا جا رہا ہے۔

ان کا الزام تھا کہ لاپتا افراد کے اہل خانہ پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے اور ان سے کہا جا رہا ہے کہ وہ ایف آئی آر درج نہ کریں۔انہوں نے یہ بھی سوال کیا کہ اگر حکومت کے پاس کچھ چھپانے کے لئے نہیں تھا تو صحافیوں پر منشیات کے مقدمات کیوں بنائے گئے؟ زرتاج گل نے اسپتالوں کے ریکارڈ کو عوام کے سامنے پیش کرنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ مسنگ پرسنز کا ڈیٹا بھی فراہم کیا جائے تاکہ معاملہ صاف ہو سکے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ غریب ریڑھی بانوں اور پشتونوں کو نسلی تعصب کی بنیاد پر نشانہ بنایا جا رہا ہے اور مسلم لیگ ن کی حکومت تقسیم کی سیاست کر رہی ہے۔ پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ چیئرمین کمیٹی نے ان کی تمام سفارشات قبول کر لی ہیں اور آئندہ اجلاس میں تمام تفصیلات کمیٹی کو فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔