بانی پی ٹی آئی عمران خان نے 26 ویں ترمیم کے بعد عدالتوں کی آزادی کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا ہے، جس کے تحت انہوں نے دعویٰ کیا کہ عدالتیں اب حکومت کے کنٹرول میں ہیں۔
عمران خان کے وکیل فیصل چوہدری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اڈیالہ جیل میں عمران خان کا ٹرائل ایک "کنٹرولڈ ماحول" میں کیا جا رہا ہے، جو ان کے مطابق عدلیہ کی آزادی کے اصولوں کے خلاف ہے۔ فیصل چوہدری نے توشہ خانہ ٹو کیس کی سماعت کے دوران درخواست دائر کی کہ عمران خان کو کھلی عدالت میں پیش کیا جائے کیونکہ ان کا حق ہے کہ ان کا اوپن ٹرائل ہو، لیکن جیل میں ٹرائل ہونے کی وجہ سے عوام کو اس عدالت کی کارروائی تک رسائی نہیں دی جاتی۔فیصل چوہدری نے یہ بھی بتایا کہ وکلاء اور صحافیوں کو جیل میں انتخابی طور پر منتخب کیا جاتا ہے اور ان کی فائلوں کو اسکین کر کے کسی اور جگہ منتقل کیا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان اور ان کی اہلیہ بشری بی بی کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور ان کے ساتھ انصاف نہیں کیا جا رہا۔عمران خان نے اپنے خط کے ذریعے کہا کہ وہ آرمی چیف کو دوبارہ لکھ رہے ہیں کیونکہ ان کے مطابق ملک میں کوئی راستہ نہیں بچا۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ 26 ویں ترمیم کے بعد عدلیہ کو کنٹرول کیا جا رہا ہے اور اس کی وجہ سے پاکستان کی سیاسی اور قانونی صورتحال میں سنگین مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ عمران خان نے عالمی میڈیا اور ہیومن رائٹس فورسز سے درخواست کی کہ وہ ان کے حق میں آواز اٹھائیں اور ان کو انصاف دلانے کے لیے اقدامات کریں۔عمران خان نے مزید کہا کہ ان کے خط کا مقصد عوام اور فوج کے درمیان بڑھتے ہوئے فاصلے کی طرف توجہ دلانا ہے، کیونکہ ان کے مطابق دہشت گردی کے خلاف جنگ اور ملک کی ترقی کے لیے عوام اور فوج کا ایک ساتھ ہونا ضروری ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جمہوریت ختم ہو چکی ہے اور عدلیہ پر کنٹرول کی وجہ سے ان کے خلاف قانون کا اطلاق درست نہیں ہو رہا۔