پشاور ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی رہنماؤں اور کارکنان کی ضمانت منسوخ کرنے کی درخواستیں خارج کردیں

پشاور ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی رہنماؤں اور کارکنان کی ضمانت منسوخ کرنے کی درخواستیں خارج کردیں

پشاور ہائیکورٹ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنماؤں اور کارکنان کی ضمانتیں منسوخ کرنے کے لیے دائر کی گئی صوبائی حکومت کی تمام درخواستیں خارج کر دی ہیں، جو 9 مئی کے بعد مختلف مقدمات کے تحت دی گئی تھیں۔

کیس کی تفصیلات:
پشاور ہائیکورٹ میں پی ٹی آئی کے رہنما و رکن قومی اسمبلی اسد قیصر، صوبائی وزیر آفتاب عالم، فیصل خان، شکیل خان سمیت 200 سے زائد رہنماؤں اور کارکنان کی ضمانتیں منسوخ کروانے کے لیے دائر درخواستوں پر سماعت ہوئی۔کیس کی سماعت جسٹس صاحبزادہ اسداللہ نے کی۔عدالت میں ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل (اے اے جی) نیاز محمد اور عبد الرؤف آفریدی پیش ہوئے۔
سرکاری مؤقف:
ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ:یہ درخواستیں 2023 میں نگراں حکومت کے دور میں دائر کی گئی تھیں۔ملزمان پر الزام ہے کہ انہوں نے احتجاج کے دوران سڑک بند کی، ریاستی اداروں اور سیکیورٹی فورسز کے خلاف نعرے بازی کی، اور بعض مقامات پر جلاؤ گھیراؤ و توڑ پھوڑ میں ملوث رہے۔یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ مظاہروں کے دوران امن و امان کو نقصان پہنچایا گیا۔
عدالت کے سوالات و دلائل:
عدالت نے استفسار کیا کہ ان افراد کو ضمانتیں کس بنیاد پر دی گئی تھیں؟جواب میں اے اے جی نے کہا کہ:شناخت پریڈ نہیں ہوئی۔کوئی غیرقانونی مواد برآمد نہیں ہوا۔سی سی ٹی وی فوٹیج یا ٹھوس شواہد موجود نہیں۔مقدمات اس وقت کی نگراں حکومت کے دور میں بنائے گئے تھے۔
عدالت کا فیصلہ:
ان نکات کو مدنظر رکھتے ہوئے، پشاور ہائیکورٹ نے تمام درخواستیں خارج کر دیں اور کہا کہ موجودہ شواہد کی بنیاد پر ضمانتیں منسوخ نہیں کی جا سکتیں۔

پس منظر:
یاد رہے کہ 9 مئی 2023 کو سابق وزیراعظم عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں شدید مظاہرے ہوئے تھے، جس کے بعد پی ٹی آئی قیادت اور کارکنان پر جلاؤ گھیراؤ، پرتشدد مظاہروں اور دیگر الزامات کے تحت مختلف مقدمات درج کیے گئے تھے۔ان مقدمات میں اکثر افراد کو ماتحت عدالتوں سے ضمانت ملی تھی، جنہیں اب منسوخ کروانے کی کوشش ناکام ہو گئی ہے۔