وزیراعظم کی ہدایت پر ٹیکس ہدف کے حصول کے لیے انٹرنل ریونیو سروسز میں انفورسمنٹ کارروائیاں تیز کرنے کا فیصلہ

وزیراعظم کی ہدایت پر ٹیکس ہدف کے حصول کے لیے انٹرنل ریونیو سروسز میں انفورسمنٹ کارروائیاں تیز کرنے کا فیصلہ

اسلام آباد میں وزیراعظم شہباز شریف نے ٹیکس اہداف کے حصول کے لیے انٹرنل ریونیو سروسز (ایف بی آر) میں جاری اصلاحات اور انفورسمنٹ اقدامات کو تیز کرنے کی ہدایت دی ہے۔

 اس سلسلے میں ہفتہ وار جائزہ اجلاس وزیراعظم کی زیر صدارت ہوا، جس میں انہوں نے اصلاحات پر عملدرآمد کو مزید تیز کرنے اور کاروباری برادری کے اعتماد کو مزید مضبوط کرنے پر زور دیا۔وزیراعظم نے ہدایت کی کہ چیئرمین ایف بی آر اور سینئر افسران ہر ماہ کراچی کے علاوہ لاہور میں بھی 2 روز قیام کریں تاکہ اصلاحات میں تیزی آئے اور انفورسمنٹ اقدامات کو مؤثر بنایا جا سکے۔ انہوں نے اسمگلنگ، ٹیکس چوری اور غیر قانونی کاروبار کے خلاف کارروائیاں جاری رکھنے کی ہدایت بھی دی۔ایف بی آر کی جانب سے چکوال اور صوابی میں غیر قانونی سگریٹ فیکٹریوں کے خلاف جاری کارروائیوں کی بھی وزیراعظم نے پذیرائی کی۔ انہوں نے حکام کو حساس پوسٹوں اور محکموں میں ایماندار اور قابل اعتماد افسران کی تعیناتی کی ہدایت دی تاکہ ادارے میں شفافیت برقرار رہے۔وزیراعظم نے ان لینڈ ریونیو کے لیے مجوزہ فیس لیس نظام کی بروقت تکمیل کی ہدایت دی ہے، جس کا مکمل رول آؤٹ 2027 تک یقینی بنایا جائے گا۔

 اس نظام کا پہلا مرحلہ یکم اکتوبر 2026 سے فعال ہوگا، جس میں AI اور جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے ٹیکس گوشواروں کے آڈٹ اور اینالسز کا نظام شامل ہے۔ اس نظام کے تحت ٹیکس کیسز کا دائرہ اختیار جغرافیائی حدود سے قطع نظر رینڈم بنیادوں پر مختص کیا جائے گا۔چیئرمین ایف بی آر نے بتایا کہ کراچی میں 7 بڑے تجارتی اداروں کے نمائندوں سے ملاقاتیں کی گئی ہیں اور کاروباری مسائل کے فوری حل کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں۔ برآمد کنندگان کے ٹیکس ریفنڈز کے لیے نئے ایس او پیز جاری کیے جا رہے ہیں۔ غیر قانونی سگریٹ فیکٹریوں کے خلاف انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیاں بھی جاری ہیں، جن میں فیکٹریاں سیل اور مشینری قبضے میں لی گئی ہے۔اجلاس میں وفاقی وزرا، اعلیٰ حکام، گورنر اسٹیٹ بینک اور متعلقہ اداروں کے افسران شریک تھے، جنہوں نے اصلاحات اور کارروائیوں کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔