ویب ڈیسک: وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی اصلاحات کے باعث ٹیکس نظام میں بہتری قابلِ تحسین ہے، تاہم مزید مؤثر اور پائیدار نتائج کے لیے مسلسل محنت کی ضرورت ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ٹیکس نظام کو عصری تقاضوں کے مطابق بنانے کے لیے معینہ مدت میں ٹھوس اقدامات یقینی بنائے جائیں۔
ایف بی آر اصلاحاتی عمل کا تفصیلی جائزہ اجلاس
وزیراعظم کی زیر صدارت ایف بی آر اصلاحات سے متعلق اہم اجلاس ہوا، جس میں وفاقی وزراء عطا اللہ تارڑ، احد چیمہ، اعظم نذیر تارڑ، چیئرمین ایف بی آر، اور دیگر متعلقہ اعلیٰ حکام شریک ہوئے۔اجلاس کو ایف بی آر کی اب تک کی اصلاحات، ٹیکس محصولات میں بہتری، ڈیجیٹائزیشن اور آئندہ کے اہداف پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
2025 میں ٹیکس ٹو جی ڈی پی ریشو میں تاریخی اضافہ
اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ ایف بی آر کے انفورسمنٹ اقدامات اور اصلاحات کے نتیجے میں مالی سال 2025 میں ٹیکس ٹو جی ڈی پی ریشو میں 1.5 فیصد کا اضافہ ہوا، جو ایک تاریخی پیش رفت ہے۔مزید بتایا گیا کہ ٹیکس گوشوارے جمع کرانے والوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا، جو 2024 میں 45 لاکھ سے بڑھ کر 2025 میں 72 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔
ڈیجیٹل اصلاحات اور فیس لیس کسٹمز کا نفاذ
اجلاس میں بتایا گیا کہ ایف بی آر نے فیس لیس کسٹمز کلیئرنس سسٹم متعارف کروایا ہے جس سے ٹیکس آمدن میں اضافہ ہوا ہے۔حکام کے مطابق، اس نظام کے تحت کلیئرنس کا وقت 52 گھنٹے سے کم کر کے 12 گھنٹے تک لایا جا رہا ہے۔اسی طرح ریٹیل سیکٹر سے 2024 کے مقابلے میں 455 ارب روپے زائد ٹیکس اکٹھا کیا گیا، جو پوائنٹ آف سیلز (POS) سسٹم کے نفاذ، ایف بی آر سے ہم آہنگی اور مؤثر انفورسمنٹ کا نتیجہ ہے۔
ڈیجیٹل ویریفکیشن اور درآمدات میں آسانی
بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ نئے نظام میں ویڈیو لنک کے ذریعے کیسز کا بروقت فیصلہ ممکن بنایا گیا ہے۔علاوہ ازیں، درآمدات پر ویٹڈ ایوریج ٹیرف میں 2.16 فیصد کمی آئی ہے، جس سے صنعتوں کے خام مال کی لاگت کم ہوئی ہے اور مینو فیکچرنگ شعبے کو سہولت ملی ہے۔
ڈیجیٹل معیشت کی جانب پیش قدمی
اجلاس میں تجویز دی گئی کہ صنعتی شعبے کے پیداواری مراحل کے اندراج کے لیے موجود ڈیٹا کو بہتر استعمال کیا جائے گا، جبکہ بین الاقوامی ماہرین کی تجاویز کو بھی اصلاحاتی پیکج میں شامل کیا جائے گا۔
وزیراعظم کی ہدایات اور اقدامات
وزیراعظم شہباز شریف نے ایف بی آر حکام کی کوششوں کو سراہتے ہوئے ہدایت کی کہ:آئندہ ہفتے تک قابل عمل اہداف اور مدت کا تعین کر کے رپورٹ پیش کی جائے۔ڈیجیٹائزیشن کو پائیدار نظام میں بدلنے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔غیر رسمی معیشت کے خاتمے کے لیے انفورسمنٹ مزید مضبوط بنائی جائے۔ایف بی آر کے ڈیجیٹل ونگ کی ازسر نو تشکیل کے لیے جامع حکمت عملی وضع کی جائے۔
تاجر برادری کو اعتماد میں لینے کی ہدایت
وزیراعظم نے کہا کہ اصلاحاتی عمل میں تمام سٹیک ہولڈرز بشمول کاروباری افراد، تاجر برادری اور ٹیکس دہندگان کو شامل کیا جائے اور ان کی سہولت کو مقدم رکھا جائے۔ان کا کہنا تھا کہ:
"ٹیکس نظام کی بہتری سے ملکی آمدن میں اضافہ اور عام آدمی پر بوجھ کم کرنا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔"