چین کے مشرقی صوبے جیانگ سو کے شہر روگاؤ میں 111 سالہ وانگ گائینگ نے اپنی طویل اور صحت مند زندگی کا راز اور اپنی سادہ عادات سے متعلق انکشاف کیا ہے۔
روگاؤ کو چین میں طویل عمر پانے والے افراد کی بڑی تعداد کے لیے جانا جاتا ہے، جہاں رواں سال فروری تک 100 سال یا اس سے زائد عمر کے 672 افراد موجود تھے۔وانگ گائینگ کا کہنا ہے کہ عمر کے ساتھ ساتھ میں خود کو بوڑھا محسوس نہیں کرتی کیونکہ میں اب بھی آسانی سے چل پھر سکتی ہوں، اور 100 سال کی عمر کے بعد بھی میں کھیتوں میں کام کرتی ہوں اور مونگ پھلی اور تربوز کی فصل کی کٹائی میں حصہ لیتی ہوں۔ وہ بتاتی ہیں کہ وہ آج بھی گھر کے متعدد کام خود کرتی ہیں جن میں میز صاف کرنا اور کپڑے تہہ کرنا شامل ہے، حالانکہ ان کے گھر والے انہیں آرام کرنے کا کہتے ہیں۔وانگ گائینگ کا کہنا ہے کہ صحت مند رہنے کے لیے جسم کو حرکت میں رکھنا بے حد ضروری ہے۔ وہ اسے اپنی روزمرہ کی زندگی کا ایک اہم جز سمجھتی ہیں اور کہتے ہیں کہ گھر کے کاموں کو وہ ورزش تصور کرتی ہیں کیونکہ یہ جسم کے اعضاء کو متحرک رکھنے اور خون کی روانی بہتر بنانے کا ذریعہ ہے۔انہوں نے اپنی سادہ اور متوازن غذا کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی روزمرہ کی خوراک میں سادہ غذائیں شامل ہیں اور گھر والے ان کے کھانے میں تبدیلی کرتے رہتے ہیں۔
انہیں مچھلی سب سے زیادہ پسند ہے کیونکہ یہ نرم اور ہضم کرنے میں آسان ہوتی ہے۔ وانگ گائینگ کا کہنا ہے کہ وہ کسی سخت غذائی اصول کی پابندی نہیں کرتی، مگر کم کھانے اور مختلف اقسام کی غذا استعمال کرنے کو ترجیح دیتی ہیں۔انہوں نے صحت مند اور طویل عمر پانے کے لیے چند اہم تجاویز بھی دی ہیں۔ وانگ گائینگ کا کہنا ہے کہ غصے سے بچنا اور دوسروں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا بھی لمبی زندگی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ وہ ذہنی سکون کو بھی اہمیت دیتی ہیں اور کہتی ہیں کہ وہ جھگڑوں اور پریشانیوں کو ذہن پر سوار کرنے کے بجائے پرسکون نیند کو ترجیح دیتی ہیں۔وانگ گائینگ روزمرہ کی زندگی میں باقاعدہ طے شدہ شیڈول پر عمل کرتی ہیں۔ وہ عموماً رات 7 بجے سوتی ہیں اور صبح 7 بجے بیدار ہوتی ہیں، اور دن میں 1 یا 2 مرتبہ مختصر نیند بھی لیتی ہیں۔ ان کی زندگی کی یہ سادہ روٹین اور مثبت رویہ انہیں صحت مند اور طویل عمر کا راز سمجھا جاتا ہے۔