ہماچل پردیش اسٹیٹ الیکٹرسٹی بورڈ لمیٹڈ (HPSEBL) نے بالی ووڈ اداکارہ اور منڈی کی بی جے پی رکن پارلیمنٹ کنگنا رناوت کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے وضاحت پیش کی ہے کہ ان کے منالی والے گھر کا جو ایک لاکھ روپے سے زائد بجلی کا بل آیا ہے، وہ تاخیر سے ادائیگی کے سبب تھا۔ اس بل میں دو حصے شامل تھے: ایک جنوری اور فروری 2025 کی بجلی کے استعمال کا بل، اور دوسرا 32,287 روپے کے پرانے واجبات کا بل۔
کنگنا رناوت نے اپنے الزام میں کہا تھا کہ انہیں منالی کے اپنے گھر کا 90,384 روپے کا بل موصول ہوا ہے، حالانکہ وہ وہاں رہتی نہیں ہیں۔ اس پر اسٹیٹ الیکٹرسٹی بورڈ نے وضاحت کی کہ کنگنا رناوت کا یہ بل صرف ان دو مہینوں کے استعمال کا نہیں تھا بلکہ اس میں پرانے واجبات بھی شامل تھے، جنہیں ادا نہیں کیا گیا تھا، جس کی وجہ سے یہ بل بڑھ گیا۔یہ وضاحت اس وقت سامنے آئی جب کنگنا نے اس بارے میں ایک ویڈیو جاری کی، جو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی۔ انہوں نے اپنے بیان میں ریاستی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ حکومت "بھیڑیوں کا غول" ہے۔ کنگنا نے یہ بھی کہا کہ وہ اس بل کے حوالے سے ریاستی حکومت کی جانب سے کیے گئے اقدام کو ظلم اور زیادتی سمجھتی ہیں۔کنگنا کے الزامات کے ردعمل میں ہماچل پردیش کے وزیراعلیٰ سکھویندر سنگھ سکھو نے کہا کہ وہ کنگنا کے بیانات کو سنجیدگی سے نہیں لیتے کیونکہ وہ اکثر اس قسم کے متنازعہ بیانات دیتی رہتی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ کنگنا کا یہ بیان ان کی عمومی نوعیت کی باتوں کی ہی ایک مثال ہے اور اسے زیادہ اہمیت نہیں دی جانی چاہیے۔اسٹیٹ الیکٹرسٹی بورڈ کے منیجنگ ڈائریکٹر، سندیپ کمار نے اس بابت مزید وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ کنگنا رناوت کے گھر کا بجلی کا بل 22 مارچ 2025 کو جاری کیا گیا تھا، جو کہ جنوری اور فروری 2025 کی بجلی کے استعمال کے علاوہ پرانے واجبات پر مشتمل تھا۔ یہ اس بات کی وضاحت ہے کہ کنگنا کے بل میں آنے والی اضافی رقم اس کی تاخیر سے ہونے والی ادائیگی کے نتیجے میں تھی۔