ایران میں سنی عالم دین محمد نژہتی قتل، پاسداران انقلاب کا علیحدگی پسند گروہوں پر الزام

ایران میں سنی عالم دین محمد نژہتی قتل، پاسداران انقلاب کا علیحدگی پسند گروہوں پر الزام

تہران: ایران کے شمال مغربی علاقے میں سنی عالم دین محمد نژہتی کے قتل کا واقعہ پیش آیا ہے، جس پر ایرانی پاسداران انقلاب نے الزام عائد کیا ہے کہ انہیں ’’صہیونی-امریکی علیحدگی پسند‘‘ گروہوں نے نشانہ بنایا۔

ایرانی پاسداران انقلاب کے مطابق محمد نژہتی کا قتل سنی اور شیعہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ وارانہ اختلافات کو ہوا دینے اور علاقے میں بدامنی پیدا کرنے کی کوشش کا حصہ تھا۔ تاہم واقعے کی درست تاریخ، حملے کے مقام اور قتل کے طریقہ کار سمیت دیگر تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آسکیں۔ایرانی خبر رساں اداروں کے مطابق محمد نژہتی کا پاسداران انقلاب سے وابستہ رضاکار فورس بسیج کے ساتھ بھی تعلق تھا۔ وہ مذہبی اور تعلیمی شعبوں سے وابستہ بسیج تنظیموں کے ساتھ طویل عرصے سے تعاون کرتے رہے تھے۔پاسداران انقلاب نے واقعے کو دہشت گردی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حملے کا مقصد صوبے میں سکیورٹی کی صورتحال کو نقصان پہنچانا اور سنی و شیعہ برادریوں کے درمیان اختلافات پیدا کرنا تھا۔ تاہم ایرانی حکام کی جانب سے عائد کیے گئے اس الزام کی آزادانہ طور پر فوری تصدیق نہیں ہوسکی۔ایران کے کرد آبادی والے مغربی اور شمال مغربی سرحدی علاقوں میں ماضی میں بھی علیحدگی پسند گروہوں اور ایرانی سکیورٹی و ریاستی اداروں کے درمیان کشیدگی اور مسلح جھڑپوں کے واقعات پیش آتے رہے ہیں۔حکام کی جانب سے واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں، جبکہ حملے میں ملوث عناصر اور قتل کے محرکات سے متعلق مزید معلومات سامنے آنے کا انتظار ہے۔