شام میں اسرائیلی فوجی کارروائیاں جنگی جرائم کے زمرے میں آسکتی ہیں، اقوام متحدہ

شام میں اسرائیلی فوجی کارروائیاں جنگی جرائم کے زمرے میں آسکتی ہیں، اقوام متحدہ

جنیوا: شام میں انسانی حقوق کی صورتحال کی تحقیقات کرنے والے اقوام متحدہ کے کمیشن نے اسرائیلی فوج کی جنوبی شام میں جاری کارروائیوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ شہریوں کی گرفتاری اور دیگر اقدامات جنگی جرائم کے زمرے میں آسکتے ہیں۔

اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کو بریفنگ دیتے ہوئے کمیشن کی رکن فیونوالا نی اولین نے کہا کہ جنوبی شام میں اسرائیلی فوجی سرگرمیاں مسلسل اور وسیع ہوتی جارہی ہیں۔ ان کارروائیوں میں زمینی دراندازی، فوجی گشت، چھاپے اور تلاشی شامل ہیں، جن کے باعث مقامی شہری آبادی متاثر ہورہی ہے۔

49 شامی شہری گرفتار
اقوام متحدہ کے کمیشن کے مطابق جون تک اسرائیلی فوج نے شام کی سرزمین سے 49 شامی شہریوں کو حراست میں لیا، جن میں دو بچے بھی شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق بعض گرفتار افراد کو شام سے باہر سرحد پار بھی منتقل کیا گیا۔کمیشن نے بتایا کہ کچھ افراد کو بیرونی دنیا سے رابطے کے بغیر حراست میں رکھا گیا، جس سے ان کے ساتھ تشدد یا بدسلوکی کے خدشات پیدا ہوتے ہیں۔اقوام متحدہ کے ماہرین نے شہریوں کی گرفتاری اور انہیں نامعلوم مقامات پر منتقل کیے جانے کے معاملے پر خاص تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ ایسے اقدامات بین الاقوامی انسانی حقوق اور انسانی قانون کے تحت سنگین قانونی سوالات پیدا کرسکتے ہیں۔

قنیطرہ اور درعا میں اسرائیلی فوجی تنصیبات
رپورٹ میں شام کے صوبوں قنیطرہ اور درعا میں اسرائیلی فوج کی سرگرمیوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔ اقوام متحدہ کے کمیشن کے مطابق اسرائیلی فوج نے ان علاقوں میں عارضی چیک پوسٹیں قائم کرنے کے ساتھ ساتھ مستقل فوجی تنصیبات بھی بنائی ہیں۔کمیشن کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوجی سرگرمیوں کے نتیجے میں بعض علاقوں کی مقامی آبادی کو اپنے گھروں سے نقل مکانی کا سامنا بھی کرنا پڑا ہے۔

اسرائیل نے اقوام متحدہ کی رپورٹ مسترد کردی
اسرائیل نے اقوام متحدہ کے کمیشن کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے اسے ’’اسرائیل مخالف‘‘ قرار دیا ہے۔اسرائیلی حکومت کے مطابق شام میں اس کی فوجی موجودگی کا مقصد محدود بفر زون کے ذریعے شہریوں کو ممکنہ سکیورٹی خطرات سے محفوظ رکھنا ہے۔ اسرائیل کا مؤقف ہے کہ شام میں اس کی کوئی علاقائی توسیع یا قبضے کی خواہش نہیں۔

شام کا رپورٹ کا خیرمقدم
دوسری جانب شامی حکومت نے اقوام متحدہ کے کمیشن کی رپورٹ کا خیرمقدم کیا ہے۔ دمشق نے اسرائیلی فوجی کارروائیوں کو شام کی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدامات 1974 کے جنگ بندی معاہدے سے بھی متصادم ہیں۔شامی حکومت کا مؤقف ہے کہ اسرائیلی فوج کی جانب سے شامی علاقوں میں فوجی سرگرمیوں اور تنصیبات کا قیام ملک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے لیے سنگین چیلنج ہے۔خلاصہ: اقوام متحدہ کے کمیشن نے جنوبی شام میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں، شہریوں کی گرفتاری، سرحد پار منتقلی اور فوجی تنصیبات کے قیام پر تشویش ظاہر کی ہے، جبکہ اسرائیل نے رپورٹ کو مسترد کردیا ہے اور شام نے اس کا خیرمقدم کیا ہے۔