ایران کا اقوام متحدہ میں مؤقف: اسرائیل پر حملے "متناسب دفاعی کارروائیاں" ہیں

ایران کا اقوام متحدہ میں مؤقف: اسرائیل پر حملے

نیویارک،: اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل مندوب امیر سعید ایروانی نے پیر کے روز سلامتی کونسل کو ایک خط ارسال کیا ہے، جس میں انہوں نے وضاحت کی ہے کہ ایران کی جانب سے اسرائیل پر کیے گئے حالیہ میزائل اور ڈرون حملے مکمل طور پر دفاعی نوعیت کے ہیں اور انہیں اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت جائز قرار دیا جا رہا ہے۔

  ایران کا قانونی مؤقف:
ایرانی سفیر نے کہا:"یہ حملے متناسب دفاعی کارروائیاں ہیں، جو خاص طور پر فوجی تنصیبات اور انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔ یہ کوئی اندھا دھند حملے نہیں بلکہ محدود اور مخصوص اہداف پر مبنی دفاعی اقدامات ہیں۔"انہوں نے مزید کہا کہ ایران نے ان کارروائیوں کے بارے میں اقوام متحدہ کو فوری اطلاع دے کر اقوام متحدہ کے چارٹر کی شق 51 کے تقاضے پورے کیے ہیں، جو کسی بھی ریاست کو مسلح حملے کے جواب میں اپنے دفاع کا حق دیتا ہے۔

  تیسرے ممالک کو سخت پیغام:
خط میں ایک انتہائی اہم نکتہ یہ بھی شامل تھا:"اگر اسرائیل کی جارحیت میں تیسرے ممالک کا کوئی بھی تعاون شامل ہوا — چاہے وہ لاجسٹک، انٹیلیجنس یا عسکری ہو — تو وہ ممالک اس بحران کی قانونی ذمہ داری اور نتائج میں برابر کے شریک سمجھے جائیں گے۔"یہ بیان بظاہر امریکہ، برطانیہ، اور بعض عرب ریاستوں کو متنبہ کرنے کے لیے دیا گیا ہے جن پر ایران ماضی میں اسرائیل کی حمایت کا الزام لگاتا رہا ہے۔

  شہری ہلاکتیں:
اقوام متحدہ میں ایران کے موقف کے برعکس، عالمی میڈیا کے مطابق:

ایران کے میزائل حملوں میں اب تک 24 اسرائیلی شہری ہلاک ہو چکے ہیں
سینکڑوں افراد زخمی ہوئے ہیں
حملے خاص طور پر تل ابیب، حیفہ، اور جنوبی اسرائیلی علاقوں میں کیے گئے
اسرائیل نے اس حملے کو "جارحانہ اور دہشتگردی کے زمرے میں آنے والی کارروائی" قرار دیا ہے
  ایران کی نئی وارننگ:
ایرانی میڈیا اور وزارت دفاع نے اعلان کیا ہے کہ:"پیر اور منگل کی درمیانی رات کو اسرائیل کے اہم مرکزی شہروں، تل ابیب اور حیفہ پر زیادہ شدید حملے کیے جائیں گے۔ یہ حملے موجودہ دفاعی ردعمل کا حصہ ہوں گے۔"ایرانی دفاعی ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر اسرائیل کی جارحیت بند نہ ہوئی تو ایران مزید سخت کارروائیاں کرے گا۔

  اسرائیل کا ردعمل:
اسرائیلی حکومت نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کو مراسلہ ارسال کیا ہے جس میں ایران کو ایک جارح ریاست قرار دیا گیا ہے
اسرائیلی افواج نے مزید حملوں کی صورت میں شدید ردعمل دینے کا اعلان کیا ہے
شہریوں کو بم شیلٹرز میں رہنے اور ہائی الرٹ پر رہنے کی ہدایات دی گئی ہیں
  عالمی تشویش:
اقوام متحدہ، یورپی یونین، روس، چین اور دیگر طاقتوں نے فریقین سے تحمل اور فوری جنگ بندی کی اپیل کی ہے
سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس متوقع ہے تاکہ تنازعے کو عالمی سطح پر قابو میں لایا جا سکے
  اقوام متحدہ کے چارٹر کا آرٹیکل 51:
"اگر کسی ریاست پر مسلح حملہ ہو تو اسے اپنے دفاع میں فوری اور انفرادی یا اجتماعی اقدامات کا حق حاصل ہے، بشرطیکہ ان اقدامات کی اطلاع فوری طور پر سلامتی کونسل کو دی جائے۔"