اقوام متحدہ کی تحقیقات میں ایران میں امریکی حملوں کو جنگی جرائم قرار دیا گیا

اقوام متحدہ کی تحقیقات میں ایران میں امریکی حملوں کو جنگی جرائم قرار دیا گیا

ایران کے بارے میں اقوام متحدہ کے آزاد بین الاقوامی تحقیقاتی مشن نے کہا ہے کہ اسے اس بات پر یقین کرنے کی معقول بنیادیں ملی ہیں کہ فروری میں ایران کے ایک اسکول اور کھیلوں کے مرکز پر ہونے والے دو امریکی حملے جنگی جرائم کے زمرے میں آ سکتے ہیں۔

اقوام متحدہ کے تحقیقاتی مشن کی نئی رپورٹ میں فروری 2026 سے جاری ایران جنگ کے دوران امریکی فوجی کارروائیوں کے ساتھ ساتھ ایران میں انسانی حقوق کی صورتحال کا بھی جائزہ لیا گیا ہے۔ رپورٹ آئندہ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے اجلاس میں پیش کی جائے گی۔رپورٹ کے مطابق ماہرین کو معقول بنیادوں پر یقین ہے کہ جنوبی ایران کے صوبہ ہرمزگان کے شہر میناب میں واقع شاجرے طیبہ پرائمری اسکول پر حملے کی ذمہ داری امریکی افواج پر عائد ہوتی ہے۔ اس حملے میں 150 سے زائد افراد ہلاک ہوئے، جن میں تقریباً 120 اسکول کے بچے شامل تھے۔اقوام متحدہ کے ماہرین کے مطابق مذکورہ اسکول واضح طور پر ایک شہری عمارت تھی اور تحقیق کے دوران انہیں ایسے شواہد نہیں ملے کہ اسے فوجی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔ مشن نے نتیجہ اخذ کیا کہ حملہ شہریوں اور شہری تنصیبات کو نقصان پہنچانے والا غیرامتیازی حملہ تھا، جو بین الاقوامی قانون کے تحت جنگی جرم کے زمرے میں آ سکتا ہے۔تحقیقاتی مشن نے ایران کے صوبہ فارس کے شہر لامرد میں ایک کھیلوں کے مرکز پر ہونے والے حملے کا بھی جائزہ لیا۔ رپورٹ کے مطابق اس حملے سے قریبی رہائشی عمارتوں اور ایک اسکول کو نقصان پہنچا جبکہ 22 شہری ہلاک یا زخمی ہوئے۔ مشن نے اس حملے کو بھی غیرامتیازی قرار دیتے ہوئے جنگی جرم سے متعلق نتائج اخذ کیے۔

تاہم امریکی حکام نے ماضی میں کہا ہے کہ ان کی فوجی کارروائیاں جنگی قوانین کے مطابق کی جاتی ہیں، جبکہ امریکی سینٹرل کمانڈ نے لامرد میں ہونے والے حملے میں امریکی فوج کے ملوث ہونے کی تردید کی تھی۔ اقوام متحدہ کے مشن کی رپورٹ سامنے آنے کے باوجود ان الزامات پر حتمی عدالتی فیصلہ کسی مجاز عدالت یا قانونی ادارے کے دائرہ اختیار میں ہوگا۔رپورٹ میں ایران کے اندر حکومت کی جانب سے ملک گیر احتجاج کے خلاف کارروائیوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔ اقوام متحدہ کے ماہرین کے مطابق احتجاجی مظاہروں کے دوران ایرانی حکام کی جانب سے شہریوں کے خلاف وسیع اور منظم کارروائیوں کے شواہد سامنے آئے، جن میں غیرقانونی ہلاکتیں، تشدد، من مانے طور پر گرفتاریاں، جبری گمشدگیاں اور آزادی اظہار پر پابندیاں شامل ہیں۔تحقیقاتی مشن کے مطابق ایران میں احتجاج کے دوران ہلاکتوں اور زخمیوں کی اصل تعداد سرکاری اعداد و شمار سے زیادہ ہونے کا امکان ہے، تاہم مشن نے کہا کہ وہ مجموعی ہلاکتوں کی تعداد کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کرسکا۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ میں یوں ایران اور امریکا دونوں سے متعلق اقدامات کا جائزہ لیا گیا ہے۔ رپورٹ کے نتائج جنگ کے دوران شہریوں کے تحفظ اور بین الاقوامی انسانی قانون کی پابندی سے متعلق سوالات کو اجاگر کرتے ہیں، تاہم کسی مخصوص کارروائی کو حتمی طور پر جنگی جرم قرار دینے کا قانونی اختیار متعلقہ عدالتی اداروں کے پاس ہوتا ہے۔