ویب ڈیسک: شام میں حالیہ جھڑپوں اور اسرائیلی فضائی حملوں کے تناظر میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس ہوا، جس میں کئی ممالک نے اسرائیل کے اقدامات کی شدید مخالفت کی۔
پاکستان نے اجلاس میں واضح اور مؤثر مؤقف اختیار کرتے ہوئے شام میں اسرائیلی جارحیت کی شدید مذمت کی اور عالمی برادری سے اس پر فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا۔
پاکستانی مندوب کا دوٹوک مؤقف: اسرائیل کو جوابدہ بنایا جائے
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے اجلاس سے خطاب میں کہا کہ:"شام کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام عالمی برادری کی ذمہ داری ہے۔ اسرائیل کی مسلسل خلاف ورزیاں بے لگامی کی علامت ہیں اور انہیں مسلسل نظرانداز کرنا نہ صرف اقوام متحدہ کے منشور بلکہ عالمی قانون کی صریح خلاف ورزی ہے۔"انہوں نے کہا کہ اسرائیل کو جوابدہ نہ ٹھہرانے کے باعث اس کی خلاف ورزیاں مزید شدت اختیار کر چکی ہیں، جس سے پورا خطہ عدم استحکام کا شکار ہو سکتا ہے۔
اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی
پاکستانی مندوب نے کہا کہ اسرائیلی اقدامات:
اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی ہیں،
عالمی قانون کے نظام کو کمزور کر رہے ہیں،
اور خطے میں امن و استحکام کو سنگین خطرات سے دوچار کر رہے ہیں۔
ایرانی مندوب کا بھی شدید ردعمل
اقوام متحدہ میں ایران کے نمائندے نے بھی خطاب کرتے ہوئے اسرائیلی جارحیت کو سلامتی کونسل کی خاموشی اور عالمی برادری کی ناکامی کا شاخسانہ قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ:"اسرائیلی حملے سنگین اشتعال انگیزی ہیں اور ان کا مقصد خطے میں مزید کشیدگی پیدا کرنا ہے۔"
شام کی صورتحال پر عالمی تشویش میں اضافہ
گزشتہ چند ہفتوں کے دوران اسرائیل کی جانب سے شام میں متعدد فضائی حملے کیے گئے ہیں جن میں:
شامی فوجی تنصیبات،
دمشق اور حلب کے ہوائی اڈے،
اور شہری علاقوں کو نشانہ بنایا گیا۔