راولپنڈی کے مختلف علاقوں میں کمسن بچیوں کے خلاف جنسی ہراسانی کے دو الگ الگ واقعات سامنے آنے کے بعد پولیس نے کارروائی شروع کردی ہے۔ دونوں واقعات نے علاقہ میں تشویش کی فضا پیدا کر دی ہے اور عوام میں سخت غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔
پہلا واقعہ تھانہ رتہ امرال کے علاقے میں پیش آیا جہاں 12 سالہ بچی اپنی 9 ماہ کی بہن کے ہمراہ قریبی رشتہ دار کے گھر جا رہی تھی کہ راستے میں دو لڑکوں نے اسے روک لیا۔ ایک ملزم نے بچی کو قابو میں رکھا جبکہ دوسرا نگرانی کرتا رہا۔ بچی کے مزاحمت کرنے پر ملزمان نے اسے چاقو کے زور پر دھمکایا اور واپس جانے پر مجبور کیا۔ متاثرہ خاندان کے مطابق ملزم نے نہ صرف نازیبا حرکات کی ویڈیو بنائی بلکہ اسے مختلف افراد تک بھی پہنچایا اور سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس نے مقدمہ درج کر کے تحقیقات کا آغاز کیا ہے۔دوسرا واقعہ تھانہ نصیر آباد کے علاقے میں پیش آیا جہاں 14 سالہ بچی کو مبینہ طور پر اغوا کر کے ایک فلیٹ میں لے جایا گیا۔ بچی کی والدہ کے مطابق ملزمان نے اسے ہراسان کیا، کپڑے اتارنے اور زیادتی کی کوشش کی، اور تشدد کا نشانہ بھی بنایا۔ متاثرہ بچی کو کئی گھنٹوں تک حبسِ بے جا میں رکھا گیا اور ویڈیو بنانے کے بعد اسے دھمکیاں دے کر چھوڑ دیا گیا۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ دونوں واقعات کے مقدمات درج کر لیے گئے ہیں اور ملزمان کی گرفتاری کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔پولیس کا کہنا ہے کہ تحقیقات جاری ہیں اور ملزمان کو جلد از جلد قانون کے شکنجے میں لایا جائے گا۔ علاقے میں عوامی حلقوں نے پولیس کے اقدامات کو سراہتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ پولیس نے عوام سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ کسی بھی مشتبہ سرگرمی کی اطلاع فوری طور پر فراہم کریں تاکہ بچوں کو لاحق خطرات سے بچایا جا سکے۔