ایشوریا رائے بچن کی دہلی ہائی کورٹ میں درخواست: غیر مجاز تصاویر اور AI مواد کے استعمال پر پابندی کی استدعا

ایشوریا رائے بچن کی دہلی ہائی کورٹ میں درخواست: غیر مجاز تصاویر اور AI مواد کے استعمال پر پابندی کی استدعا

ویب ڈیسک: بالی وڈ کی مشہور اداکارہ ایشوریا رائے بچن نے دہلی ہائی کورٹ میں ایک درخواست دائر کی ہے جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ ان کی تصاویر، نام اور شناخت کو کمرشل یا کسی غیر مجاز مقصد کے لیے استعمال کرنے سے روکا جائے، خاص طور پر اے آئی کے ذریعے تیار کردہ مواد (AI generated content) اور موروڈ (morphed) تصاویر کے استعمال پر پابندی لگائی جائے۔

عدالت میں پیش کی گئی درخواست میں کہا گیا کہ ایشوریا کی تصاویر اور شخصیت کو بعض افراد کمرشل فائدے کے لیے استعمال کر رہے ہیں، اور ان کا نام اور چہرہ استعمال کر کے پیسہ کمایا جا رہا ہے۔ درخواست میں یہ بھی بتایا گیا کہ "نیشن ویلتھ" نامی کمپنی نے ایشوریا کی تصویر اپنے لیٹر ہیڈ پر استعمال کی اور انہیں چیئرپرسن ظاہر کیا، حالانکہ ان کا کمپنی سے کوئی تعلق نہیں تھا اور نہ ہی انہیں علم تھا۔ایشوریا کی قانونی ٹیم کے وکیل سندیپ سیٹھ نے عدالت میں تفصیل سے بتایا کہ یہ غیر مجاز مواد اکثر غیر حقیقی اور غیر اخلاقی انداز میں پھیلایا جا رہا ہے، اور اس کے نتیجے میں اداکارہ کی شہرت اور پرسنلٹی رائٹس متاثر ہو رہی ہیں۔

عدالت کے جج تیجس کاریہ نے زبانی طور پر اشارہ دیا کہ وہ انٹرم آرڈر جاری کر سکتے ہیں تاکہ پلیٹ فارمز اور افراد کو خبردار کیا جا سکے جو غیر مجاز طور پر ایشوریا رائے کی تصاویر یا شناخت استعمال کر رہے ہیں۔یاد رہے کہ اس سے قبل بالی وڈ کے دیگر مشہور ستارے جیسے جیکی شروف، انیل کپور اور امیتابھ بچن بھی ہائی کورٹ سے اپنی شناخت اور تصاویر کے غیر مجاز استعمال کے خلاف قانونی کارروائی کر چکے ہیں، جس میں عدالت نے ان کے حقوق کی حفاظت کے لیے اقدامات کیے تھے۔