پنجاب اسمبلی میں سینیٹ کی جنرل نشست کے لیے الیکشن آج ہوگا۔ ووٹنگ صبح 9 بجے سے شام 4 بجے تک بلا تعطل جاری رہے گی۔
مسلم لیگ ن کے امیدوار رانا ثناء اللہ اور اپوزیشن کی جانب سے سلمیٰ اعجاز کے درمیان سخت مقابلہ متوقع ہے۔ ن لیگ کے امیدوار کو 263 ووٹوں کی حمایت حاصل ہے، جبکہ سینیٹر منتخب ہونے کے لیے پنجاب اسمبلی کے کم از کم 180 ووٹ درکار ہوں گے۔پنجاب اسمبلی میں حکومت اور اپوزیشن کے کل 363 ارکان موجود ہیں، اور ووٹوں کے لحاظ سے مسلم لیگ ن سب سے بڑی جماعت ہے۔ ن لیگ کے پاس اسمبلی میں 229 ووٹ ہیں۔دوسری جانب، پاکستان تحریک انصاف کے 24، سنی اتحاد کونسل کے 73، اور دیگر جماعتوں یعنی مسلم لیگ ضیاء، تحریک لبیک پاکستان، اور مجلس وحدت المسلمین کے ایک ایک ووٹ ہیں۔پنجاب اسمبلی کی 371 سیٹوں میں سے چھ پی ٹی آئی اراکین پہلے ہی نااہل ہو چکے ہیں۔
اس کے علاوہ، میاں اسلم اقبال نے ابھی تک حلف نہیں اٹھایا، اور پی پی 269 کے میاں علمبردار عباس نے اپنی سیٹ سے استعفیٰ دے دیا۔اپوزیشن کی امیدوار سلمیٰ اعجاز کو تقریباً 100 ووٹوں کی حمایت حاصل ہے۔ الیکشن کمیشن نے پنجاب اسمبلی کی نئی عمارت کا کنٹرول سنبھال لیا ہے، اور ووٹنگ کا عمل نئی عمارت میں ہوگا۔ماہرین کے مطابق، ن لیگ کے حمایتی رانا ثناء اللہ کو واضح برتری حاصل ہوگی، جبکہ یہ نشست اعجاز چوہدری کے 9 مئی کیسز میں سزا کے باعث خالی ہوئی تھی۔