الیکشن کمیشن آف پاکستان نے حالیہ فیصلے میں مراد سعید کی نااہلی کے نتیجے میں سینیٹ کی نشست خالی قرار دینے کے اعلان کو واپس لے لیا ہے۔
اس فیصلے کے تحت جاری کیا گیا اعلامیہ اور تحریری حکم نامہ بھی واپس کر لیے گئے ہیں۔ الیکشن کمیشن کے مطابق، مراد سعید نے سینیٹ کا حلف ہی نہیں اٹھایا تھا اور آئینی طور پر ان کا عہدہ سنبھالنا بھی ثابت نہیں ہوا، جس کی وجہ سے نااہلی کے بعد بھی سینیٹ کی کوئی نشست خالی نہیں ہوئی۔اس فیصلے کے پیچھے بنیادی قانون اور آئینی اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے، الیکشن کمیشن نے واضح کیا کہ مراد سعید کی نااہلی کے نتیجے میں سینیٹ کی کسی بھی نشست پر اثر انداز نہیں ہوا کیونکہ انہوں نے حلف اٹھایا ہی نہیں تھا اور عہدہ سنبھالا بھی نہیں تھا۔ اس لیے اب ایسی کوئی قانونی گنجائش نہیں رہتی کہ سینیٹ کی نشست خالی قرار دی جائے یا نئی انتخابات کروائی جائیں۔دوسری جانب، الیکشن کمیشن نے مسلم لیگ ن کے رکن صوبائی اسمبلی جلال خان کی درخواست بھی منظور کرلی ہے۔ جلال خان کی جانب سے پیش ہونے والے وکیل، بیرسٹر محمد یاسین رضا، نے عدالت کی جانب سے یہ فیصلہ سنایا۔ اس درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ کسی حلقے میں انتخابات میں دھاندلی یا دیگر قانونی نقائص پائے گئے ہیں، جس کے سبب وہ بازیابی کے حق دار ہیں۔
اس فیصلے سے قبل، الیکشن کمیشن نے جلال خان کی درخواست پر سماعت کی اور تمام قانونی پہلوؤں کا بغور جائزہ لینے کے بعد منظوری دی۔ اس دوران، جلال خان نے اپنے دلائل میں کہا کہ ان کے حلقے میں انتخابات کے دوران دھاندلی ہوئی ہے، جس کی تصدیق کے لیے تحقیقات کی جائیں۔ الیکشن کمیشن نے اس درخواست کو منظور کرتے ہوئے، متعلقہ حلقے کے انتخابات کو از سر نو کروانے کا حکم دیا ہے یا دیگر مناسب اقدامات اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس فیصلے سے متعلق مزید تفصیلات جلد جاری کی جائیں گی، تاکہ قانون کے مطابق مناسب کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔