پنجاب کے جنوبی اضلاع میں دریاؤں میں پانی کی سطح مسلسل بلند ہونے کے باعث سیلابی صورتحال نے خطرناک شکل اختیار کر لی ہے۔
خاص طور پر تونسہ، جھنگ، لیہ، راجن پور اور میانوالی کے دیہی علاقے شدید متاثر ہو رہے ہیں۔
تونسہ: درمیانے درجے کا سیلاب، درجنوں دیہات زیر آب
دریائے سندھ میں تونسہ کے مقام پر درمیانے درجے کے سیلاب کے باعث 20 سے زائد دیہات زیر آب آ چکے ہیں۔سیلابی ریلوں کی وجہ سے کئی مکانات منہدم ہو چکے ہیں اور لوگ محفوظ مقامات کی طرف نقل مکانی پر مجبور ہیں۔متاثرہ افراد کا کہنا ہے کہ پانی کی سطح مسلسل بڑھ رہی ہے، جس سے صورتحال مزید خراب ہو رہی ہے۔
جھنگ اور چناب میں طغیانی
دریائے چناب میں طغیانی کے باعث جھنگ کے 10 سے زائد دیہات سیلاب کی لپیٹ میں آ گئے۔زرعی زمینیں پانی میں ڈوب گئی ہیں، اور مقامی کسان شدید مالی نقصان سے دوچار ہیں۔
لیہ: 4 لاکھ کیوسک سے زائد پانی کا ریلہ
لیہ میں دریائے سندھ سے گزرنے والا چار لاکھ کیوسک سے زائد پانی کا ریلہ کئی دیہات میں داخل ہو گیا۔تونسہ سپر بند میں شگاف پڑنے سے درجنوں خاندانوں کو اپنا سامان چھوڑ کر محفوظ مقامات کی طرف منتقل ہونا پڑا۔
راجن پور: دریائی پانی سے فصلیں متاثر
راجن پور کے قریب دریائے سندھ کی سطح میں مسلسل اضافہ دیکھا گیا ہے۔پانی کے باعث دریا کے کنارے کاشت کی گئی فصلوں کو شدید نقصان پہنچا ہے، جن میں دھان، گنا اور سبزیاں شامل ہیں۔
میانوالی: کپاس اور مونگی کی فصلیں تباہ
ضلع میانوالی کے مختلف علاقوں میں سیلابی پانی نے ہزاروں ایکڑ پر کھڑی مونگی اور کپاس کی فصلوں کو برباد کر دیا ہے۔مقامی کاشتکاروں نے حکومت سے امدادی پیکج اور فوری سروے کی اپیل کی ہے۔
امدادی اقدامات درکار
متاثرہ علاقوں میں:
ریسکیو ٹیموں کی کمی اور امدادی کارروائیوں میں سستی کی شکایات سامنے آ رہی ہیں۔
مقامی آبادی کا مطالبہ ہے کہ حکومت فوری طور پر:
ریلیف کیمپ قائم کرے
راشن، ادویات اور شیلٹر فراہم کرے
زرعی نقصان کا تخمینہ لگا کر معاوضے کی رقم جاری کرے