ویب ڈیسک: پاکستان میں پولیو کے خاتمے کے لیے 13 اکتوبر سے قومی سطح پر انسداد پولیو مہم شروع ہوگی۔
اعلان: اس مہم کا اعلان فوکل پرسن برائے انسداد پولیو پروگرام عائشہ رضا فاروق نے پریس کانفرنس میں کیا۔
شریک عمل اور ہدف: تقریباً چار لاکھ پولیو ورکرز مہم میں حصہ لیں گے اور چار کروڑ پچاس لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے جائیں گے۔
ماضی کی مہمیں: ستمبر 2004 سے اب تک چھ ملک گیر مہمیں چل چکی ہیں۔
ممانعت کے کیسز: پولیو کے قطرے پلانے سے انکار کرنے والے کیسز کی تعداد 11 لاکھ سے کم ہو کر 8 لاکھ 30 ہزار رہ گئی ہے۔
حالیہ کیسز: ملک میں اب تک 29 پولیو کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں، جن میں سب سے زیادہ خیبرپختونخوا سے سامنے آئے ہیں۔
چیلنجز: ہر سال تقریباً ستر لاکھ بچے پیدا ہو رہے ہیں، جس کی وجہ سے مہم کا ہدف مسلسل بدل رہا ہے۔ نقل مکانی اور فرنٹ لائن ورکرز سے غیر مناسب رویہ بھی مہم کے اثر کو متاثر کرتے ہیں۔
حفاظت: عائشہ رضا فاروق نے کہا کہ پولیو ویکسین مکمل محفوظ ہے اور عازمین حج بھی اسے لے کر جاتے ہیں۔