ملک بھر میں آج سے پولیو کے خلاف قومی مہم کا باقاعدہ آغاز ہو گیا ہے، جس کا مقصد 4 کروڑ 50 لاکھ سے زائد بچوں کو اس موذی مرض سے محفوظ بنانا ہے۔
مہم کے دوران 4 لاکھ سے زائد پولیو ورکرز گھر گھر جا کر پانچ سال سے کم عمر بچوں کو پولیو کے قطرے پلائیں گے۔ حکام کے مطابق مہم کو مؤثر بنانے کے لیے سیکیورٹی اور مانیٹرنگ کے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔متعلقہ حکام کا کہنا ہے کہ گزشتہ برسوں کے دوران پاکستان نے پولیو کے خاتمے کی جدوجہد میں نمایاں پیش رفت کی ہے، تاہم وائرس کے مکمل خاتمے کے لیے والدین کا تعاون انتہائی ضروری ہے۔قومی انسداد پولیو مہم کی فوکل پرسن وزیراعظم برائے انسداد پولیو عائشہ رضا نے پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ پولیو کا خاتمہ میڈیا کے تعاون کے بغیر ممکن نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ رواں سال کی پہلی پولیو مہم کے آغاز کے ساتھ ہی پاکستان پولیو کے خاتمے کے آخری مراحل میں داخل ہو چکا ہے۔