سیلاب کے معاملے پر عالمی برادری سے رابطہ نہ کرنا ناقابلِ فہم ہے:وزیراعلیٰ سندھ

سیلاب کے معاملے پر عالمی برادری سے رابطہ نہ کرنا ناقابلِ فہم ہے:وزیراعلیٰ سندھ

کراچی میں منعقدہ مینجمنٹ ایسوسی ایشن آف پاکستان (میپ) کی لیڈرشپ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ حالیہ سیلاب کے معاملے پر عالمی برادری سے بات نہ کرنا سمجھ سے بالاتر ہے۔

 ان کا کہنا تھا کہ سیلاب کے حوالے سے صرف گفتگو ہونی چاہیے تھی، نہ کہ تنازع یا بدمزگی پیدا کی جاتی۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ کراچی پاکستان کی معیشت کا دل ہے، اور ہمیں اس وقت سنگین معاشی و ماحولیاتی چیلنجز کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت صوبے میں جدید ٹرانسپورٹ نیٹ ورک قائم کر رہی ہے، کے فور منصوبے کی جلد تکمیل پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے، جبکہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت ترقیاتی منصوبوں کو تیزی سے آگے بڑھایا جا رہا ہے۔مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ ایجوکیشنل وکیشنل اتھارٹی کے ذریعے نوجوانوں کی اسکل ڈیولپمنٹ پر کام جاری ہے، تاکہ روزگار کے بہتر مواقع فراہم کیے جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ مینجمنٹ ایسوسی ایشن نے اسکلز ڈیولپمنٹ اور پروفیشنل تربیت کے شعبے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے، جس سے صوبے میں مستقبل کے لیڈرز تیار ہو رہے ہیں۔انہوں نے یقین دلایا کہ سندھ حکومت کاروباری برادری کے لیے آسان اور سازگار ماحول فراہم کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’ہم ایک ایسے نظام پر یقین رکھتے ہیں جہاں نجی اور سرکاری شعبے مل کر ترقی کے عمل کو آگے بڑھائیں۔‘‘

میڈیا سے گفتگو میں وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ سیلاب کے ہم ذمہ دار نہیں، اور ’’ارسا کو ختم کرنے‘‘ سے متعلق انہیں کوئی باضابطہ علم نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ حالیہ سیلاب کے دوران زیادہ تر نقصان کچے کے علاقوں میں ہوا، جبکہ باقی اضلاع میں انتظامات کے باعث بڑے پیمانے پر نقصان سے بچاؤ ممکن ہوا۔مراد علی شاہ نے کہا کہ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے پنجاب اور وفاق کو زرعی ایمرجنسی کے نفاذ اور کاشتکاروں کی بحالی کے لیے اقدامات کی تجویز دی تھی، جس پر عمل درآمد شروع ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹو کی تجویز پر تنقید کرنے کے بجائے عالمی برادری سے رابطہ کیا جانا چاہیے تھا تاکہ امداد اور تعاون حاصل کیا جا سکے۔انہوں نے صدرِ مملکت سے وفاقی وزرا کی ملاقاتوں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’اگر وزرا صدر سے مل رہے ہیں تو یقیناً کوئی اہم معاملہ زیرِ بحث ہوگا، اس پر حیرت نہیں ہونی چاہیے۔‘‘آخر میں وزیراعلیٰ سندھ نے صحافی کے قتل پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ لواحقین سے ہمدردی اور تعزیت کرتے ہیں، اور پولیس کو ملزمان کی فوری گرفتاری کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔