خیبر پختونخوا کے علمائے کرام نے آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کی قرآن سے متعلق علم و فہم کی زبردست تعریف کی ہے۔
یہ تعریف اس وقت سامنے آئی جب آرمی چیف نے پاکستان بھر کی یونیورسٹیوں کے طلبہ کے ساتھ ایک خصوصی نشست میں قرآن و حدیث کی روشنی میں مدلل گفتگو کی۔علماء نے جنرل عاصم منیر کی دینی و علمی بصیرت کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی گفتگو کے دوران جو دلائل دیے وہ نہ صرف درست تھے بلکہ انتہائی جامع بھی تھے۔ اس موقع پر جمعیت علمائے اسلام کے رہنما مولوی احمد شاہ نے کہا کہ آرمی چیف کے بیان سے انہیں بہت اطمینان ملا ہے اور وہ ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔مفتی حکیم علی نے کہا کہ آرمی چیف نے قرآن کی آیت کے حوالے سے جو بات کی، وہ خوارج کے بارے میں بالکل درست تھی۔ مولانا شاہ نواز نے کہا کہ وہ تمام مذہبی فکر رکھنے والے افراد پاک فوج اور اپنے سپہ سالار کے ساتھ کھڑے ہیں، اور جنرل عاصم منیر نہ صرف حافظ قرآن ہیں بلکہ ایک باصلاحیت انسان بھی ہیں۔جمعیت علمائے اسلام کے جنرل کونسل کے رکن قاری افسر خان نے جنرل عاصم منیر کے مؤقف کی بھرپور تائید کی اور کہا کہ ان کا خوارج سے متعلق بیان قابل فخر ہے۔
جامعہ عربیہ معراج القرآن بنوں کے نائب مہتمم مفتی ڈاکٹر محمد زین العابدین نے سکیورٹی فورسز کے جوانوں کی قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے نوجوانوں کو پاک فوج کی مکمل حمایت کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔اس نشست میں دیگر مذہبی رہنماؤں جیسے محمد اسرار قریشی اور محمد واجد فاروقی نے بھی آرمی چیف کے بیان کی تائید کی اور کہا کہ پاکستان میں فساد پھیلانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ حافظ محمد سعید اور مولانا شعیب شاہ نے بھی آرمی چیف کے طلبہ کے ساتھ خطاب کو سراہا اور اس سے مکمل اتفاق کیا۔مجموعی طور پر، خیبر پختونخوا کے علما نے جنرل عاصم منیر کی قیادت میں پاک فوج کی کوششوں کو سراہتے ہوئے ان کے مؤقف کی بھرپور حمایت کی ہے۔