غزہ میں جاری جنگ کے خاتمے کے لیے اہم پیشرفت سامنے آئی ہے، جہاں جنگ بندی معاہدے پر باضابطہ دستخط آج دوپہر متوقع ہیں۔
ذرائع کے مطابق، معاہدے پر دستخط کے فوراً بعد غزہ میں جنگ بندی نافذالعمل ہو جائے گی، جس کے تحت دونوں فریقوں کو اپنی عسکری کارروائیاں روکنے کی ہدایت دی جائے گی۔خبر رساں اداروں کے مطابق، 24 گھنٹوں کے اندر اسرائیلی فوج جزوی انخلا کا پہلا مرحلہ مکمل کرے گی۔ اس اقدام کے تحت فوج کو غزہ کے کئی حساس علاقوں سے پیچھے ہٹنا ہوگا تاکہ انسانی امداد کی ترسیل ممکن بنائی جا سکے۔دوسری جانب، اسرائیلی وزیرِاعظم بینجمن نیتن یاہو نے معاہدے کی باضابطہ منظوری کے لیے آج دو اہم اجلاس طلب کر لیے ہیں۔ ان اجلاسوں میں کابینہ کے ارکان اور سیکیورٹی حکام شرکت کریں گے تاکہ معاہدے کی شرائط اور عمل درآمد کے مراحل کا حتمی جائزہ لیا جا سکے۔
اسرائیلی فوج نے بھی تصدیق کی ہے کہ وہ غزہ میں معاہدے پر عمل درآمد کے لیے عملی تیاریوں کا آغاز کر چکی ہے۔ فوجی ذرائع کے مطابق، زمینی دستوں اور امدادی اداروں کے درمیان کوآرڈینیشن بڑھا دی گئی ہے تاکہ جنگ بندی کے دوران کسی قسم کی رکاوٹ یا خلاف ورزی نہ ہو۔واضح رہے کہ اسرائیل اور فلسطینی گروہوں کے درمیان جنگ بندی اور قیدیوں کی رہائی کے معاہدے کا پہلا مرحلہ مصر میں مکمل ہو چکا ہے، جس میں فریقین نے امن منصوبے پر اصولی اتفاق کیا ہے۔ذرائع کے مطابق، ابتدائی مرحلے میں یرغمال بنائے گئے فلسطینی قیدیوں اور اسرائیلی مغویوں کی رہائی پر بھی پیشرفت کا امکان ہے۔