غزہ جنگ بندی معاہدے کے تحت حماس کی جانب سے اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی

غزہ جنگ بندی معاہدے کے تحت حماس کی جانب سے اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی

غزہ میں جنگ بندی معاہدے کے تناظر میں حماس نے اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کے لیے تیار ہونے کا اعلان کیا ہے۔

 حماس کے ایک اہلکار کے مطابق، معاہدے کے پہلے مرحلے میں 34 اسرائیلیوں کو رہا کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ یہ معاہدہ قطر، مصر اور امریکہ کی جانب سے کئی مہینوں کی کوششوں کا نتیجہ ہے۔ تازہ ترین کوشش ڈونلڈ ٹرمپ کے صدارت کے عہدے پر دوبارہ فائز ہونے کے قریب سامنے آئی ہے۔حماس نے اسرائیل کی جانب سے فراہم کردہ فہرست سے 34 اسرائیلی قیدیوں کی رہائی کی منظوری دے دی ہے۔ تاہم، اسرائیلی وزیر اعظم آفس نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ حماس نے ابھی تک رہائی کے لیے یرغمالیوں کی فہرست فراہم نہیں کی ہے۔

معاہدے کے تحت، حماس نے یقین دہانی کرائی ہے کہ ابتدائی تبادلے میں تمام خواتین، بچوں، بوڑھوں اور بیمار قیدیوں کو رہا کیا جائے گا جو ابھی تک غزہ میں قید ہیں۔ حماس کے عہدیدار نے میڈیا سے بات چیت کرنے سے گریز کیا اور کہا کہ وہ اس مرحلے میں مذاکرات کے حوالے سے کوئی تفصیل نہیں دینا چاہتے۔دوسری جانب، اسرائیلی فوج نے جنگ بندی کے باوجود خان یونس میں پولیس اسٹیشن پر حملہ کیا اور رفح، نصیرات اور جبالیا کیمپوں میں بمباری کر کے مزید 17 فلسطینیوں کو شہید کر دیا۔ رپورٹ کے مطابق، 24 گھنٹوں کے اندر 100 سے زائد فلسطینی شہید ہوئے ہیں۔ اس دوران بے گھر فلسطینی سردی کی شدت میں خیموں میں پناہ لینے پر مجبور ہیں، اور ہائپوتھرمیا کے نتیجے میں 8 بچے جاں بحق ہو چکے ہیں۔