خالد خان
ہر سال یکم مئی کو عالمی یوم مزدور منایا جاتا ہے کیونکہ 1886ء میں امریکی شہر شکاگو میںمزدوروںنے سرمایہ داروں کے ستم کے خلاف ہڑتال کی اور اپنے حقوق کیلئے احتجاجی مظاہرے کیے،پولیس نے مظاہرین پر تشدد کیا اور مزدوروں کو گولیوں سے بھون ڈالا۔پولیس کی گولیوں سے مزدور ہلاک اور درجنوں مضروب ہوئے۔1889ء میں پیرس میں انقلاب کی صد سالہ تقریب میں کینیڈا کے سینیٹرریمونڈلیونگ نے یکم مئی کو یوم مزدور کے طور پر منانے کی تجویز دی اور1890ء میں یکم مئی کو یوم مزدور منانے کا اعلان کیا اور 1891ء سے باقاعدہ یکم مئی کو لیبر ڈے منایا جارہا ہے۔
جب مزدوروں کے کام کے اوقات اور چھٹی کا دن مقرر نہیں تھے تو برطانوی سماجی مصلح رابرٹ اوون نے تجویز پیش کی کہ مزدور کیلئے آٹھ گھنٹے محنت، آٹھ گھنٹے تفریح اورآٹھ آرام ناگزیر ہے۔اس تناظر میں دیکھا جائے تو آج بھی مزدور کرب کا شکار ہے، مزدور بارہ گھنٹے سے زیادہ کام کرنے پر مجبور ہے۔بعض ممالک میںمزدور سولہ سولہ گھنٹے کام کررہے ہیں، وہ چار چار گھنٹے کے چار مختلف جگہوں پرکام کرنے کو غنیمت سمجھتے ہیںکیونکہ سرمایہ داروں کے باعث مہنگائی عروج پر ہے،اگر مزدور بارہ گھنٹے سے سولہ گھنٹے کام نہیں کریں گے تو ظالمانہ ٹیکسز اور مہنگائی کے باعث پھر اُن کیلئے سسٹم میں رہنا محال ہے۔پاکستان میں کاغذی کاروائی میں ایک مزدور کیلئے آٹھ گھنٹے کام مقرر ہے مگر مزدوروں کو اوور ٹائم کے بھینٹ چڑھایا جاتا ہے۔مزدور کو مہنگائی کی نسبت سے مزدوری دی جائے تو پھر اُن کو اوور ٹائم پرمجبور نہیں کیا جاسکتا ہے۔کہنے کومزدور کی37 ہزار روپے تنخواہ مقررہے مگر بیشتر مزدوروں کو 37 ہزار روپے نہیں دیے جارہے ہیں۔ اکثرپرائیویٹ سکولوں کے اساتذہ کو ایک مزدور کی تنخواہ سے بھی کم معاوضہ دیا جارہا ہے ۔پرائیویٹ سکولوں میں اساتذہ کی تنخواہ کم ازکم 50ہزار روپے مقرر کی جائے ،اس میں کم ازکم10 فی صد سالانہ اضافہ لازمی ہواور پرائیویٹ سکولوں کے اساتذہ کو بھی ای او بی آئی پنشن کا حق دار قرار دیا جائے۔نجی سکول / پرائیویٹ سکولوں کی رجسٹریشن کیلئے ای او بی آئی سے منسلک ہونا لازمی قرار دیا جائے۔ ای او بی آئی پنشن کم ازکم30 ہزار روپے ماہانہ مقررکیا جائے، پرائیویٹ ٹیچرز کیلئے میڈیکل، ٹرانسپورٹ اور ہائوس الائونس وغیرہ تنخواہ کے علاوہ ہو، پرائیویٹ ٹیچرز کو بنک اکائو نٹ کے ذریعے تنخواہ دی جائے ۔اسی طرح سیکورٹی گارڈز اور دیگر مزدور وں کی تنخواہ کم ازکم 45 ہزار روپے مقرر کی جائے، تنخواہ بذریعہ بنک اکائونٹ دی جائے، مزدوروں اور سیکورٹی گارڈز کی رہائش ، میڈیکل اور ٹرانسپورٹ بذمہ کمپنی وغیرہ ہو۔پرائیویٹ سکولوں کے اساتذہ، سیکورٹی گارڈز اور تمام مزدوروں کے بچوں کی تعلیم یونیورسٹی تک بالکل فری ہو۔ پرائیویٹ سکولوں کے اساتذہ، سیکورٹی گارڈز اور تمام مزدوروں اور ان کے فیملی کا میڈیکل مکمل طور پر فری ہو۔ پرائیویٹ سکولوں کے اساتذہ، سیکورٹی گارڈز اور تمام مزدوروںکو حکومت کم ازکم پانچ مرلہ مکان فری دے ،وزیروں، مشیروں، ایم این ایز، ایم پی ایز اور ممبران سینٹ پر سالانہ اربوں خرچ کیے جاسکتے ہیں تو پرائیویٹ سکولوں کے اساتذہ، سیکورٹی گارڈز اور دیگر مزدوروں پر رقوم خرچ کیوں نہیں کیے جاسکتے ہیں۔پرائیویٹ سکولوں کے اساتذہ، سیکورٹی گارڈز اور دیگر مزدورخوشحال ہونگے تو ملک ترقی کرے گا۔