نو جوانوں کو صرف چھ ما ہ یا ایک سا ل کے کو رس پر محدود کر نے کے بجا ئے مختصر سکل اپ گریڈیشن پروگرا م متعارف کر وا ئے جا رہے ہیں
ہیلتھ کیئر ، آئی ٹی، سو لر انرجی اور کنسٹرکشن کے شعبو ں میں خصو صی تر بیت دے رہے ہیں جن کی مشرق وسطی یورپ اور دیگر مما لک میں طلب ہے
تربیت حاصل کرکے ہر 100 میں سے کم از کم 82 مر د وخواتین یا تو ملا زمت حا صل کر تے ہیں یا اپنا روزگار شروع کر تے ہیں: خالد مسعود چودھری کا انٹرویو
لاہور(خصوصی رپورٹر)پنجا ب ووکیشنل ٹریننگ کونسل کے چیئرمین خالد مسعود چودھری نے کہا ہے میر ی اولین تر جیح ہے ادارے کوجدید تقاضوں کے مطا بق ڈھا لا جا ئے تا کہ ہما رے تما م ووکیشنل ٹریننگ انسٹیٹوٹس میں دی جا نے وا لی تر بیت صر ف روائتی نہ ہو بلکہ مقامی انڈسٹری اور بین الاقوامی ما ر کیٹ کے مروجہ ڈیما نڈ کے مطا بق ہو۔انہوں نے انٹرویو میں کہاپنجا ب ووکیشنل ٹریننگ کو نسل میں وہ ٹریڈ متعارف کر وا ئے جا رہے ہیں جن کی ما رکیٹ میں طلب ہو جس کے لیے انڈسٹر ی کے سا تھ براہ راست مشاورت اور سیکٹرز کی تشخیص و ترویج کی جا رہی ہے۔ مزید برآں نو جوانوں کو صرف چھ ما ہ یا ایک سا ل کے کو رس پر محدود کر نے کے بجا ئے مختصر سکل اپ گریڈیشن پروگرا م متعارف کر وا ئے جا رہے ہیں تا کہ وہ اپنی مہارتوں کو مسلسل بہتر بنا تے رہیں۔ چو نکہ اگلی دھائی ڈیجیٹل اکانو می کی ہے اس لیے فری لا نسنگ ، ای کا مرس ، آرٹیفیشل انٹیلیجنس(AI)اور ڈیجیٹل ما رکیٹنگ جیسے کو رسز پر خصو صی توجہ دی جا رہی ہے تا کہ نو جو ا ن صرف مقا می نہیں بلکہ عا لمی ما رکیٹ میں بھی مقا بلہ کر سکیں۔ ہما ری حکمت عملی یہ بھی ہے کہورک بیسڈٹریننگ (WBT)جو کہ ایک کا میا ب ووکیشنل ٹریننگ ما ڈل ہے جس کے تحت طالب علم اپنی تر بیت کے دورا ن ہی فیکٹری یا کمپنی میں کا م کر تا ہے او ر جب وہ فا ر غ التحصیل ہوتا ہے تو پہلے ہی کا م کا خا طر خواہ تجربہ حا صل کر چکا ہو تا ہے اور اسیاسی جگہ فی الفو ر ملازمت مل جا تی ہے۔ ہما ری ٹر یننگ کا ایک لا زمی جزو لائف سکل ٹریننگ بھی ہے جس میں ہم نو جوانو ں کو کا م کر نے کے طور طریقوں کے سا تھ سا تھ یہ بھی بتا تے ہیں کہ سیکھنے کا عمل کبھی ختم نہیں ہو تا اور ان فا رغ التحصیل طلبہ کے لئے سیکھنے سکھا نے کا عمل جا ری رہتا ہے۔ ہم اپنی ٹرنینگ کو نیشنل ووکیشنل کوالیفیکیشن فریم ورک (NVQF)کے مطا بق کر رہے ہیں تا کہ یہ عا لمی معیا ر سے ہم آہنگ ہو اور اس سے ہما رے سرٹیفیکیس کو بیرون ملک بھی قبو لیت حا صل ہو۔ ہم ہیلتھ کیئر ، IT، سو لر انرجی اور کنسٹرکشن کے شعبو ں میں خصو صی تر بیت دے رہے ہیں جن کی طلب مشرق وسطی یورپ اور دیگر مما لک کی طلب عین مطا بق ہے اس کے سا تھ سا تھ ہم نے ان ملکو ں کی زبا ن اور وہاں پر کا م کر نے کے کلچر کو سمجھا نے کی تر بیت بھی شرو ع کر دی ہے۔ ہم مقامی صنعتوں کے سا تھ سا تھ Overseas Employers کے سا تھ بھی را بطے بڑھا رہے ہیں تاکہ ہما ری ٹریننگ عین روزگار سے جڑ سکے۔ ہما را ہدف یہ ہے کہ پاکستا نی ورک فور س کم اجرت والی نہیں بلکہ ہا ئی والیوسکلز کے ذریعے بہتر معاوضہ اور روزگا حا صل کر ئے۔ پی وی ٹی سی آ ج صو بہ بھر میں 190 اداروں پر مشتمل ایک منظم نیٹ ورک ہے جو ہر تحصیل میں مو جو د، نو جوانوں کو فنی وپیشہ ورانہ تعلیم کے زیور سے آ راستہ کررہے ہیں یعنی شہری مراکز سے لیکر دور دراز دیہات تک، ہنر واقعی دہلیز پر ہے۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہاآج تک ادارے کی سالانہ تربیتی صلا حیت 75,000 ہے جبکہ روزگار پذیر ی کی شر ح 82 فیصد کے قریب ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ہر 100 میں کم از کم 82 نو جوان مر د وخواتین یا تو ملا زمت حا صل کر تے ہیں یا اپنا روزگار شروع کر تے ہیں۔ پی وی ٹی سی کے اعدادو شما ر کے مطا بق تربیت حا صل کر نے وا لی خوا تین کی شر ح اکیاون فیصد ہے۔ یہ محض ایک عدد نہیں بلکہ پنجا ب کی سما جی و معاشی تا ریخ میں ایک ایسی بڑی تبدیلی ہے جو براہ راست صنفی مسا وات کے عالمی ہدف کوہم آ ہنگ ہے۔پی وی ٹی سی کے اعداد و شما رکے مطا بق اب تک ایک ملین سے زائد نوجوان مر دوخواتین تربیت یا فتہ ہو چکے ہیں۔مو جو دہ رفتار کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ تعداد روزبروز تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ یوں " ملین پلس" فا رغ التحصیل اب پی وی ٹی سی کی شنا خت بنتے جا رہے ہیں۔ اپنی زندگیوں میںتبدیلی لا کر معا شی خو د مختا ری کا ہد ف حا صل کر چکے ہیں۔ پی وی ٹی سی اوورسیز ایمپلائمنٹ پروموٹر لا ئسنس کے حصو ل کی سمت بھی بڑھ رہا ہے تا کہ قا نو نی طو ر پر نو جوانو ں کو بیرون ملک ملا زمت دلا ئی جا سکے بین الا قوا می ادا رے کے مطا بق دو ہزار چو بیس میں تر سیلا ت زر آٹھ سوسا ٹھ ارب ڈالر سے تجا وز کر گئیں اور پا کستا ن دنیا کا پا نچوا ں بڑا وصو ل کنندہ ملک رہا جس میں پی وی ٹی سی سے تر بیت یا فتہ نو جوانو ں کی کثیر تعدا دشا مل ہے، یوں پی وی ٹی سی جیسے اداروں کی تر بیت اور بیرون ملک Placementقو می معیشت کے استحکا م کا ذریعہ ہے۔