ریٹائرمنٹ وسوسہ یا حقیقت

تحریر:رائے مشتاق احمد

کالم زندہ جاوید

برصغیر پاک وہند کے لوگ خواہشوں اور حسرتوں سے بھرے ہوئے ہیں ۔ان لوگوں کی آنکھوں اور دلوں میں آگے بڑھنے کی بھوک ہے۔ اور یہ ہونی بھی چاہیے۔کچھ تو انسانی فطرت بھی ہے اور کچھ علامہ اقبال نے جو اپنی شاعری کے ذریعے اس خطے کے لوگوں کا تجسس بڑھا دیاتھا۔ زندگی کی مختلف خواہشوں میں سے ایک خواہش نوکری کی خواہش ہے۔ کبھی کبھی سرکاری نوکری ضرورت ٹھہرتی ہے اور کبھی کبھار شوق۔ بہرحال نوکری ہو یا چھوکری ہو اس کے نبھانے کے لئے انسان کو ہمہ وقت خوف ف حصار میں رہنا پڑتا ہے ۔ انسان نہ تو آزادی سے جینے کا دعوی کر سکتا ہے اور نہ اپنے مرنے کی خبر سنا سکتا ہے۔
پچھلے دنوں رائے مشتاق احمد ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر اپنی سروس مکمل کر کے ریٹائرڈ ہوئے۔ان کی ریٹائر منٹ کے موقع پر مختلف لوگوں کے اظہار خیال سننے کو ملے۔ ہر مندوب نے اپنے اپنے لفظوں کے جال بچھائے اور ان کی ملازمت کے اتار چڑھائو کوبیان کیا۔ ان کی بیباک شخصیت کو بھی لفظوں میں ڈھالا گیا ۔
ہم بھی شریکِ محفل تھے اور ہمارے قلم نے بھی اکسایا کہ کچھ نہ کچھ لکھ ڈالیں ۔ کس کو معلوم تھا کہ رائے اللہ دتہ کے گھر شیخوپورہ کی سر زمین پر پیدا ہونے والا بچہ رائے مشتاق احمداپنی صلاحیتوں کے ذریعے انقلاب برپا کرے گا۔ رائے مشتاق احمد یکم نومبر1964ء کو پیر وارث شاہ کی سرزمین شیخوپورہ میں پیداہوئے۔علاقائی سطح پر تعلیمی مراحل طے کرتے ہوئے قانون کی ڈگری حاصل کرنے تک پہنچ گئے اور سرکاری نوکری کے حصول کے لئے پبلک سروس کمیشن کا امتحان پاس کر کے اسسٹنٹ ڈسٹرکٹ اٹارنی ، حافظ آباد تعینات ہو گئے۔2006ء میں پبلک پراسیکیوشن ڈیپارٹمنٹ نے اُن کی سروسز سمیٹ لیں۔ رائے صاحب ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹرننکانہ صاحب تعینات رہے۔ اس کے بعد ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر فیصل آباد لگا دیاگیا ۔ وہاں پر اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا لوہا منوایا ۔ اس کے بعد ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر لاہور تعینات ہوئے اور لاہور میں کسی مانجھے ہوئے افسر کی طرح نوکری کے جوہر دکھائے۔ سروس کی آخری تعیناتی پراسیکیوٹر جنرل پنجاب آفس لاہورمیں ہوئی اور وہیں سے 31اکتوبر2024ء کو ملازمت انتہائی طریقے سے ریٹائرہوئے۔اپنی سروس کو عبادت سمجھ کر گزارا۔ بہت محتاط رویوں سے سروس کو چلاتے رہے۔ ان کا معمول یہ تھا کہ دفتر آتے ہی اپنے دوستوں اور ماتحت عملے سے مسکراتے چہرے سے ملنا اور دفتری امورمیں مصروف ہوجانا۔ گھر سے کھانا لانا خود بھی کھانا اور اپنے عملے کو بھی کھلانا۔ بعض اوقات دوست احباب بھی نوش فرما لیتے تھے۔ سائلین کا تانتا بندھا رہتا تھا۔ کوشش کرتے تھے کہ ہر کسی کی حاجت روائی کریں ۔ دوست احباب کاآنا جانا لگا رہتاتھا۔ دوستوں کی ضیافت اور بھرم میں بھی بہت محتاط تھے ۔ مہمان کو دروازے تک آکر الوداع کرنا، بعض اوقات مہمان کے ساتھ تصویر بنوانا اچھا سمجھتے تھے۔ آپ انتہائی خوب صورت چہرے ، دراز قد، ملن سار، متقی اور  رکھ رکھائو کے اوصاف کے مالک تھے۔جہاں کسی سے ٹکر لینی پڑی تو ڈٹ کے دکھایا 
اور دل گردے میں دم ہونے کا عملی مظاہرہ کیا۔معاملہ فہمی میں بھی کسی سے کم نہ تھے۔ اکثر کہا کرتے تھے کہ ’’میں ریٹائرڈ بندوں کی بہت زیادہ قدر کرتا ہوں۔‘‘ 
لوگ کہتے ہیں ’’روٹی بندہ کھا جاندی اے‘‘ ۔ میں کہتا ہوں کہ نوکری بندہ کھا جاتی ہے۔ نوکری والے انسان کی زندگی ناپ تول میں آجاتی ہے ۔ پابندیوں کا حصار جکڑ لیتا ہے۔ دفتر سے لیٹ ہو تو باس کا ڈر۔ گھر سے لیٹ ہو تو بیوی کا ڈر۔ کام غلط ہو جائے تو افسر کی ڈانٹ، کام نہ آتا ہو تو معاشرے کا ڈر۔کبھی شوکاز کا ڈر، کبھی جواب طلبی کا ڈر، کبھی PEEDAایکٹ کا ڈر۔ کبھی انسپکشن کا ڈر، کبھی آڈٹ کا خوف تو کبھی سرپرائز وزٹ کا ڈر۔ کبھی پبلک کی طرف سے شکایت کا ڈر، کبھی سوشل میڈیے کا ڈرتو کبھی اخبار میں سرخی لگنے کا ڈر تو کبھی ٹی وی پر پٹی چلنے کا ڈر۔انسان ریٹائر منٹ کے قریب اور زیادہ خائف ہو جاتا ہے کہ کوئی انکوائری نہ لگ جائے ۔ ساری زندگی کا کیا کرتا کھوہ میں نہ جائے۔ پنشن نہ رک جائے، جی پی فنڈ میں مسئلہ نہ بن جائے، گریجوایٹی نہ پھنس جائے وغیرہ وغیرہ۔ سروس کے آغاز سے لے کر ریٹائرمنٹ کے دن تک ڈر سے ڈر تک کا سفر ہے ۔ خدا جانے نوکری وسوسہ یا حقیقت۔