ٹرمپ کی خارجہ پالیسی: وعدے اور حقیقت

سمیع اللہ ملک (دوسری قسط)

ٹرمپ نے مصراوراردن سے مزیدفلسطینیوں کوپناہ دینے کامطالبہ کرتے ہوئے بادی النظرمیں فلسطین کواسرائیل کے نقشے میں ضم کرنے کی خواہش ظاہرکی ہے۔یہ مؤقف نہ صرف فلسطینی عوام کے حقوق کیلئے خطرہ ہے بلکہ مشرق وسطی میں مزید تنازعات کاباعث بھی بن سکتاہے۔عرب ممالک اوردیگرمسلم ممالک کے ساتھ امریکاکے تعلقات مزیدخراب ہونے کاخدشہ ہے۔مزید مسلم ممالک کے شہریوں پرسفری پابندیاں عائدکرنے کے اقدامات سے امریکاکے مسلم ممالک کے ساتھ تعلقات کوشدیدنقصان پہنچا ہے۔ان پالیسیوں نے امریکامیں موجودمسلم کمیونٹی کوالگ تھلگ کردیاہے اورانسانی حقوق کی تنظیموں کوشدیدتشویش میں مبتلاکیا ہے۔
ٹرمپ نے ورلڈ اکنامک فورم میں اپنی تقریرکے دوران سعودی عرب سے کم ازکم ایک ہزاربلین ڈالرکی امریکا میں سرمایہ کاری اور450بلین ڈالرکی امریکی مصنوعات خریدنے کا مطالبہ کیا۔اس اقدام نے امریکااورسعودی عرب کے تعلقات کواقتصادی بنیادوں پرمزیدمضبوط کرنے کی بجائے یہ ظاہرکیاکہ ٹرمپ انتظامیہ اپنے اتحادیوں پرمالی دباؤڈالنے سے گریزنہیں کرتی۔اس قسم کی پالیسیاں وقتی طورپرامریکی معیشت کیلئے فائدہ مندہوسکتی ہیں،لیکن طویل المدتی میں یہ امریکاکے اتحادیوں کے ساتھ تعلقات کو نقصان پہنچاسکتی ہیں ۔ٹرمپ نے روس کویوکرین میں جنگ بندی کیلئے معاہدہ کرنے پردبا ڈالنے کیلئے روسی مصنوعات پرٹیرف بڑھانے کی دھمکی دی۔یہ اقدام ایک طرف روس پردباؤبڑھانے کیلئے تھا لیکن دوسری طرف یہ امریکاکے تجارتی تعلقات کومزید پیچیدہ بناسکتاہے۔ روسی حکومت نے اس دھمکی کومستردکرتے ہوئے امریکاپرالزام عائدکیاکہ وہ یکطرفہ فیصلوں کے ذریعے عالمی امن کوخطرے میں ڈال رہاہے۔
ٹرمپ انتظامیہ نے جنوبی ایشیا اورچین کے اثرورسوخ کومحدودکرنے کیلئے ’’کواڈ‘‘اتحادکو فعال کرنے کی حکمت عملی کاعندیہ بھی دیاہے۔اس حکمت عملی میں انڈیاکوایک اہم کرداردیا گیاتاکہ چین کی اقتصادی اورعسکری طاقت کامقابلہ کیاجاسکے۔ان اقدامات نے انڈیاکے ساتھ امریکاکے تعلقات کومضبوط کیا،لیکن چین کے ساتھ تجارتی جنگ اورخطے میں تنازعات کومزیدگہراکیاہے۔’’کواڈ‘‘اتحاد کی حکمت عملی نے جنوبی ایشیامیں طاقت کے توازن کوبھی متاثرکیاہے۔مودی سرکارخطے میں اپنی برتری کیلئے امریکااور اسرائیل کے کندھوں کواستعمال کرنے کیلئے امریکی خواہشات پرسربسجدہ ہوچکی ہے جس کی بناپروہ پاک چین کی سرمایہ کاری سے بننے والے’’سی پیک‘‘کے خلاف پاکستان میں دہشتگردی کیلئے اپنی پراکسیزکواستعمال کررہاہے۔
گزشتہ برسوں میں اس نے چین کے سرحدی علاقوں لداخ میں چینی افواج کے ساتھ جھڑپوں میں اس کی خاصی قیمت اداکی ہے اور خودبھارتی وزیردفاع راج ناتھ سنگھ  نے لوک سبھامیں یہ بیان دیاکہ چین نے بھارتی لداخ کے36ہزارمربع میل پرقبضہ کرلیاہے اوراب واپسی کی بجائے اس نے وہاں اپنے فوجیوں کیلئے مستقل کنکریٹ کے بینکرزتعمیرکرلئے ہیں جس سے مرادیہ ہے کہ اس نے یہ علاقہ مستقل طورپرچین میں شامل کرلیاہے۔اسی سلسلے میں بھارت کوایک اوردھچکادیتے ہوئے چین نے ہوتان پریفیکچر میں لداخ کے کچھ حصے شامل کرکے2نئی کاؤنٹیوں کے قیام کااعلان بھی کردیا۔دراصل بھارت کی وزارت خارجہ کی جانب سے واویلا خطے میں اس کی بالادستی کے خواب کولگے دھچکے کاردعمل ہے، بھارت نے مقبوضہ کشمیرپرغیرقانونی قبضہ جمارکھا ہے اوراب چین کے ہاتھوں اس کے ساتھ بھی وہی ہواہے۔امریکاکوبھی بری طرح احساس ہوگیاہے کہ خطے میں پہلے ہی وارمیں اس کاگھوڑالنگڑاہوگیاہے جس میں اب آگے چلنے کی نہ توہمت ہے اورنہ ہی اس میں سکت ہے۔  
ٹرمپ انتظامیہ نے چین پرٹیرف بڑھاکراسے معاشی دبا ؤمیں لانے کی کوشش کی ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیاچین اس دباؤکے سامنے جھک جائے گایااس کاجواب دے گا؟چین کی معیشت متنوع اورمضبوط ہے۔بیلٹ اینڈروڈانیشیٹوکے ذریعے چین نے دنیاکے کئی خطوں میں اپنااثرورسوخ قائم کیاہے۔چین کے پاس عالمی منڈی میں امریکاکے ٹیرف کاجواب دینے کیلئے مختلف آپشنزموجود ہیں،جیسے کہ امریکی مصنوعات پرپابندیاں عائدکرنایادیگرممالک کے ساتھ نئے تجارتی معاہدے کرنااورچین امریکی مصنوعات پر جوابی ٹیرف لگاکرامریکی کسانوں اورصنعتوں کونشانہ بناسکتاہے،جیساکہ ماضی میں ہواہے۔اس سے امریکی معیشت پردباؤبڑھ سکتاہے اورٹرمپ کے ووٹربیس پرمنفی اثرپڑسکتاہے۔
چین نے حالیہ برسوں میں اپنی کرنسی’’یوان‘‘ کومضبوط بنانے کی کوشش کی ہے۔وہ دیگرممالک کے ساتھ تجارت میں ڈالرکی جگہ یوان کے استعمال کوفروغ دے کرامریکی مالیاتی نظام کوچیلنج کررہاہے۔وہ اپنی  ضرورت کا40فیصدتیل ایران سے خریدرہاہے اور اس کی ادائیگی یوآن میں کررہاہے اوراسی طرح سعودی عرب میں درجن سے زائدبڑے پراجیکٹ چین تعمیرکررہاہے۔سعودی چینی بزنس کونسل کے چیئرمین محمد العجلان نے’’الاخباریہ‘‘کوانٹرویومیں کہا’’دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی لین دین120ارب ڈالرتک پہنچ گیاہے اورچینی سرمایہ کاری کے حجم میں نمایاں اضافہ ہونے جارہاہے‘‘۔یہ بھی عین ممکن ہے کہ چین شمالی کوریا کے ذریعے امریکاپردباؤڈال سکتاہے۔اگرشمالی کوریانے اپنے جوہری ہتھیاروں کے تجربات دوبارہ شروع کیے تویہ ٹرمپ انتظامیہ کیلئے ایک بڑی سفارتی شکست ہوسکتی ہے۔
ٹرمپ کے دورمیں میڈیاکے ساتھ تعلقات ایک اہم موضوع رہاہے۔سی این این اوردیگرلبرل میڈیاچینلزکے ساتھ ان کے تنازعات نے میڈیاکی آزادی پربحث کوجنم دیا۔ٹرمپ کی ترجیح فاکس نیوزکودینااوراس چینل کے ذریعے اپنی پالیسیوں کوعوام تک پہنچاناان کی میڈیاحکمت عملی کاحصہ رہا۔اس سے یہ ظاہرہوتاہے کہ ٹرمپ اپنی مرضی کابیانیہ تشکیل دینے میں کتنے سنجیدہ ہیں اورہم سب جانتے ہیں کہ فاکس نیوزچینل کوچلانے والے کون ہیںـ؟
ٹرمپ کے دورحکومت میں امیگریشن پالیسیوں میں سخت تبدیلیاں دیکھنے کوملیں۔میکسیکوکی سرحدپردیوارکی تعمیر،مسلم اکثریتی ممالک کے شہریوں پرسفری پابندیاں،اورغیرقانونی تارکین وطن کے خلاف سخت اقدامات نے عالمی سطح پرانسانی حقوق کیلئے کام کرنے والی تنظیموں کی تنقیدکوجنم دیا۔یہ پالیسیاں ان کے’’سب سے پہلے امریکا‘‘کے نعرے کی عکاسی کرتی ہیں لیکن ان کے نفاذنے امریکاکوایک کثیرالثقافتی ملک کے طورپرکمزورکیاہے۔
لیکن یہاں یہ جاننادلچسپی سے خالی نہ ہوگاکہ سخت گیرامیگریشن پالیسیوں کے ماسٹرمائنڈکون ہیں اوراس کے پیچھے خفیہ مقاصد کیاہیں جس کے تحت بالخصوص مسلمان ممالک کے شہریوں کونشانہ بنایاگیاہے۔سٹیفن ملر،جوڈونلڈٹرمپ کی انتظامیہ میں سینئرمشیررہے ہیں،امریکاکی سخت گیرامیگریشن پالیسیوں کے ماسٹرمائنڈسمجھے جاتے ہیں۔ان کی پالیسیاں امریکی سیاسی منظرنامے میں گہرے اثرات مرتب کرچکی ہیں،خاص طورپرغیرقانونی امیگریشن کے خلاف سخت اقدامات اورامریکاکے’’پیدائش پرشہریت‘‘کے قانون کے خاتمے کے حوالے سے ملرنے امریکی شناخت اورتحفظ کے نام پرایک متنازعہ بیانیہ پیش کیا،جوامیگریشن پالیسیوں کے سخت ہونے کاباعث بنا۔
سٹیفن ملر23اگست1985کوسانتامونیکا، کیلیفورنیامیں پیداہوا۔ اس کے والدین روسی یہودی مہاجرین کی اولادتھے،جوخودایک امیگریشن پس منظررکھتے تھے۔تاہم ملرنے اپنی ابتدائی عمرسے ہی امیگریشن کے خلاف سخت مقف اپنایا۔ڈیوک یونیورسٹی سے گریجویشن کرنے کے بعد،وہ قدامت پسند سیاست میں شامل ہوگیااوربعد میں ٹرمپ کی صدارتی مہم کے اہم رکن بنا۔وہ ٹرمپ کے’’سب سے پہلے امریکا‘‘کے ایجنڈے کانمایاں حمایتی رہااورامیگریشن کوامریکی معیشت،سیکیورٹی اورثقافت کیلئے خطرہ قرار دینے کی کوشش کی۔ملرکی
 نگرانی میں ٹرمپ انتظامیہ نے کئی سخت گیرامیگریشن اقدامات متعارف کرائے،جن میں مسلم اکثریتی ممالک پرسفری پابندی،جنوبی سرحدپردیوارکی تعمیراورپناہ کے قوانین میں سختی شامل تھی۔ان پالیسیوں کامقصدبظاہرغیرقانونی تارکین وطن کوروکنااورقانونی امیگریشن کوبھی محدودکرناتھا۔ملرنے ان پالیسیوں کوامریکی معیشت اورثقافت کے تحفظ کیلئے ضروری قرار دیالیکن ناقدین نے انہیں نسل پرستی اورتعصب پرمبنی قراردیا۔(جاری ہے)