سمیع اللہ ملک (آخری قسط)
امریکامیں’’پیدائش پرشہریت‘‘کاقانون آئین کی چودھویں ترمیم کے تحت حاصل ہے،جس کے مطابق امریکامیں پیداہونے والاہربچہ خودبخودامریکی شہری بن جاتاہے۔تاہم ٹرمپ اورملرنے اس قانون کوختم کرنے کیلئے ایگزیکٹوآرڈرپردستخط کرنے کاارادہ ظاہر کیا۔ان کامؤقف ہے کہ یہ قانون غیرقانونی تارکین وطن کے بچوں کوغیرضروری طورپرشہریت فراہم کرتاہے جوکہ امریکی وسائل پربوجھ بنتے ہیں۔آئینی ماہرین کے مطابق’’پیدائش پرشہریت‘‘کاقانون چودھویں ترمیم کے تحت محفوظ ہے اوراسے ایگزیکٹوآرڈرکے ذریعے تبدیل کرناممکن نہیں۔قانون میں ترمیم کیلئے کانگریس کی منظوری یاسپریم کورٹ کی تشریح ضروری ہے۔اگرچہ ٹرمپ نے یہ معاملہ قانونی سطح پرچیلنج کرنے کی دھمکی دی تھی لیکن اس کے عملی امکانات محدودنظرآتے ہیں۔
سٹیفن ملرکی پالیسیاں اوراس کے سخت گیراورمتعصبانہ نظریات امریکی سیاست میں امیگریشن کے حوالے سے گہرے اختلافات کی عکاسی کرتے ہیں۔اگرچہ ان کامقصدامریکی مفادات کاتحفظ قراردیاگیالیکن ان کے اقدامات نے انسانی حقوق،آئینی اصولوں، اورسماجی مساوات کے مسائل کوبھی اجاگرکیاہے۔ٹرمپ کے دورحکومت میں یہ کوششیں توجہ کامرکزرہے گی لیکن آئندہ حکومتوں کیلئے یہ ایک متنازعہ ورثہ چھوڑجائے گی۔
مزیدمسلم ممالک کے شہریوں پر سفری پابندیاں عائد کرنے کے اقدامات سے امریکا کے مسلم ممالک کے ساتھ تعلقات کوشدید نقصان پہنچاہے۔ان پالیسیوں نے امریکامیں موجود مسلم کمیونٹی کوالگ تھلگ کردیاہے اورانسانی حقوق کی تنظیموں کوشدید تشویش میں مبتلاکیاہے۔یہ اقدامات امریکاکے عالمی اثرورسوخ کوکمزورکرسکتے ہیں،کیونکہ مسلم ممالک میں ان پالیسیوں کے خلاف سخت ردعمل دیکھنے کوملاہے۔
ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم میں وعدہ کیاتھاکہ وہ نئی جنگوں سے گریزکریں گے اورجاری جنگوں سے باہرنکلیں گے۔تاہم،ان کی خارجہ پالیسی ان وعدوں سے متصادم نظرآئی۔ایران کے ساتھ کشیدگی،افغانستان سے مکمل انخلامیں امریکاجیسی سپرپاورکی ناکامی،اورشام میں امریکی مداخلت کے جاری رہنے نے ان وعدوں کی حقیقت پرسوال اٹھائے ہیں۔اگر آپ کویادہوتوٹرمپ نے اپنے پہلے دورِاقتدارمیں افغانستان میں جس بہیمانہ اندازمیں’’بموں کی ماں‘‘کابے دریغ استعمال کیاتھا،لیکن اس کے باوجودانہیں پاکستان کے توسط سے دوحہ میں انہی طالبان کے سامنے ان کی تمام شرائط تسلیم کرنے کے بعدامریکی افواج کابراستہ پاکستان انخلا ممکن ہوسکاتھا۔
ٹرمپ کابینہ کے خارجہ سیکرٹری کی جانب سے اسامہ بن لادن کے سرکی قیمت سے زیادہ افغانستان کے حکمران طالبان لیڈروں کے سروں کی قیمت لگانے کاعندیہ ایک نیاموڑہے ۔ یہ پالیسی خطے میں عدم استحکام کاباعث بن سکتی ہے کیونکہ طالبان کے خلاف اس قسم کے اقدامات ان کے ردعمل کومزیدشدت دے سکتے ہیں۔یہ نہ صرف افغانستان میں امریکی مفادات کونقصان پہنچا سکتاہے بلکہ پاکستان سمیت جنوبی ایشیا کے ممالک پربھی اس کے گہرے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔
امریکا کی چین پاکستان اقتصادی راہداری کے حوالے سے پاکستان پردباؤڈالنے کی امریکی کوششیں بھی ناکام دکھائی دیتی ہیں کیونکہ سی پیک چین کے بیلٹ اینڈروڈانیشیٹوکاایک اہم حصہ ہے اوراس پردباؤڈالنے کامقصدچین کے اثرورسوخ کومحدودکرناہے۔تاہم یہ دباؤ پاکستان کے داخلی سیاسی معاملات میں مداخلت کے مترادف ہے،جونہ صرف پاک امریکا تعلقات کومتاثرکرسکتاہے بلکہ خطے میں امریکاکیلئے مزیدمشکلات پیداکرسکتاہے۔
صدرٹرمپ نے دعوی کیاکہ ان کے برطانیہ کے وزیراعظم سرکیئرسٹارمرکے ساتھ بہت اچھے تعلقات ہیں،باوجوداس کے کہ وہ لبرل ہیں لیکن ان کی پالیسیاں برطانیہ میں مقیم برٹش مسلمانوں میں شکوک وشبہات کوبڑھارہی ہیں،جوان کے بیانات اورپالیسیوں کے اثرات کی عکاسی کرتی ہیں۔یہ بات ظاہرکرتی ہے کہ ٹرمپ اپنے عالمی اتحادیوں کے ساتھ تعلقات میں اپنی مرضی کے مطابق تبدیلیاں لاناچاہتے ہیں لیکن وہ اپنے ان مذموم مقاصدمیں کبھی بھی کامیاب نہیں ہوسکیں گے تاہم ایک کاروباری ذہن کے مالک نے اپنے ووٹرز کوخوش کرنے کیلئے یہ بیان تودیاہے لیکن وقت آنے پریہ خوش گمانی ختم ہوجائے گی اورٹرمپ اپنے حامیوں سے یہ کہہ کربری الذمہ ہوجائیں گے کہ انہوں نے توپوری کوشش کی لیکن مقامی حالات ان کے راستے کی رکاوٹ بن گئے۔
ٹرمپ نے اپنی وائٹ ہاس واپسی کے ابتدائی دنوں میں واضح کردیاکہ وہ ایگزیکٹواختیارات کابڑی حدتک استعمال کرکے ملک کو بدلنے کاارادہ رکھتے ہیں۔یہ تبدیلیاں وقتی طورپرتو امریکی معیشت یاسیاست میں کچھ فوائد فراہم کرسکتی ہیں،لیکن طویل مدت میں یہ امریکاکے جمہوری ڈھانچے کونقصان پہنچاسکتی ہیں۔اس لئے ٹرمپ کی پالیسیوں کے اثرات کا تجزیہ کرتے ہوئے یہ کہنامشکل ہے کہ ان کادورحکومت امریکاکومضبوط کرے گایاکمزور۔ان کے اقدامات نے اندرون ملک عوام کوتقسیم کیاہے اورامریکاکی عالمی حیثیت کوچیلنجز کا سامناہے۔تاہم ٹرمپ کے ٹیکس کٹوتیوں کے حکم سے امریکی معیشت میں بہتری دیکھنے کوملی ہے۔انہوں نے قومی مفادات پرتوجہ دیتے ہوئے اس کواولین ترجیح دی ہے جوان کے ووٹرزکیلئے ایک مثبت پہلوتھالیکن دوسری طرف انسانی حقوق کے چیمپئن ہونے کادعویٰ کرنے والے ٹرمپ کی امیگریشن پالیسیوں نے امریکاکی اخلاقی حیثیت کوکمزورکردیاہے۔
ٹرمپ کی یورپی اتحادیوں،کینیڈا،اورمیکسیکوکے ساتھ تعلقات میں کشیدگی نے جہاں امریکاکی سفارتی طاقت کونقصان پہنچایاوہاں ٹرمپ کی پالیسیوں نے چین اورروس کوعالمی سطح پراپنااثرورسوخ بڑھانے کاموقع فراہم کیاہے۔ٹرمپ کی جارحانہ پالیسیوں اور ایگزیکٹواختیارات کے غیرمعمولی استعمال نے امریکاکوایک ایسی راہ پرڈال دیاہے جہاں اتحادیوں کے ساتھ تعلقات کمزورہورہے ہیں اورعالمی سیاست میں تنازعات بڑھ رہے ہیں۔یہ پالیسیزوقتی طورپرامریکاکے مفادات کوفائدہ پہنچاسکتی ہیں لیکن طویل المدتی میں یہ امریکاکی عالمی حیثیت کونقصان پہنچاسکتی ہیں۔دنیاایک پیچیدہ اورباہم جڑی ہوئی جگہ ہے،اورکسی بھی عالمی طاقت کو اپنی مرضی سے چلانے کی خواہش بالآخرمشکلات کوجنم دیتی ہے۔امریکاکی کامیابی باہمی تعاون،سفارتی حکمت عملی،اور اندرونی استحکام پرمنحصرہے اوریہی اصول اس کی عالمی قیادت کوبرقراررکھنے کیلئے ناگزیرہیں۔
ٹرمپ اپنی مرضی سے دنیاکوتونہیں چلاسکتے لیکن وہ عالمی نظام کوچیلنج ضرورکرسکتے ہیں۔ان کی پالیسیوں کے طویل مدتی اثرات امریکاکی ساکھ اورعالمی قیادت کی حیثیت پربھی اثر اندازہوں گے۔ان کایہ رویہ وقتی طورپرداخلی حمایت حاصل کرسکتا ہے لیکن طویل المدتی میں اس کااثرنقصان دہ ہوسکتاہے۔ٹرمپ کے جارحانہ بیانات اورپالیسیوں سے یہ تاثر ملتاہے کہ وہ دنیاکواپنی مرضی کے مطابق چلانے کی خواہش رکھتے ہیں۔تاہم عالمی سیاست میں یکطرفہ فیصلے اکثرردعمل اورمخالفت کوجنم دیتے ہیں۔ چین،روس،ایران،اور دیگر طاقتیں اپنے مفادات کے تحفظ کیلئے اقدامات اٹھارہی ہیں۔شمالی کوریاکاخطرہ،سی پیک کی مضبوطی اور مشرق وسطی میں چین اورروس کی شراکت داری امریکاکیلئے چیلنجزپیداکرسکتی ہیں۔ٹرمپ کی موجودہ جارحانہ پالیسیوں پرکیاچین خاموشی اختیارکرتے ہوئے پسپائی اختیارکرے گایاایک مرتبہ پھرشمالی کوریاکا خطرہ سامنے آکر ٹرمپ کوپسپائی اختیارکرنے پرمجبورکردے گا۔کیاچین پاکستان میں جاری سی پیک کوامریکی خطرات کامقابلہ کرنے کیلئے پاکستان کے ساتھ کوئی نیامعاہدہ کرے گااورایران، افغانستان کے علاوہ روس کی مددسے گردوپیش کی ریاستوں میں اپنااثرورسوخ مزیدبڑھادے گا۔اس کاجواب اگلے چندمہینوں میں اس وقت واضح ہوجائے گاجب ٹرمپ کے جاری کردہ بہت سے ایگزیکٹوآرڈرمنہ چھپاتے پھریں گے۔