لوگو کی جگہ حقیقت کی کھوج لکھ دیں

ثمر عباس لنگاہ

دنیا کے نقشے پر ایک ایسا خطہ بھی موجود ہے جہاں زمین کا ہر ذرہ خون میں نہایا ہوا ہے، جہاں ہوا بارود کی بو سے بوجھل ہے اور جہاں آسمان پر بادل نہیں بلکہ مظلوموں کی آہیں چھائی ہوئی ہیں۔ اس سرزمین کا نام ہے فلسطین۔۔۔ وہ مقدس خطہ جو عرصہ سے انسانیت کے زخموں کی ایک جیتی جاگتی تصویر ہے۔
حال ہی میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے فلسطین کی آزادی کے حق میں ایک اور قرارداد منظور کی۔ یہ قرارداد امید کی ایک کرن تو ہے مگر تاریخ ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ قراردادیں صرف الفاظ ہوتی ہیں، جب تک ان کے پیچھے عمل کی طاقت نہ ہو۔ کیا یہ قرارداد ان ماؤں کی چیخوں کا جواب بن سکے گی جو اپنے بچوں کو کھو چکی ہیں؟ کیا یہ ان بچوں کی آنکھوں میں روشنی واپس لا سکتی ہے جو اپنا پچپن جنگ کے سائے میں گزار رہے ہیں؟
فلسطین کی داستان کسی ایک قوم کی نہیں، یہ پوری انسانیت کی کہانی ہے۔ یہ کہانی ظلم، جبر اور ناانصافی کی ہے مگر یہ کہانی ہمت، حوصلے اور غیرت کی بھی ہے۔ یہ وہ خطہ ہے جہاں ہر قدم پر ظلم کے نشان ہیں مگر وہاں کے لوگ آج بھی اپنے حق کے لیے کھڑے ہیں۔ ان کے دلوں میں آزادی کا خواب آج بھی زندہ ہے، وہ خواب جو بار بار توڑا گیا مگر کبھی مٹایا نہیں جا سکا۔۔۔
اقوامِ متحدہ کی یہ قرارداد فلسطینی عوام کے لیے انصاف کا دروازہ کھول سکتی ہے مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ دروازہ واقعی کھلے گا؟ دنیا کے طاقتور ممالک جن کے مفادات ان مظلوموں کی آزادی سے متصادم ہیں، کیا وہ واقعی انصاف کا ساتھ دیں گے؟ قرارداد منظور کرنا آسان ہے مگر انصاف کے لیے لڑنا اور اپنے مفادات کو قربان کرنا ایک الگ معاملہ ہے۔
فلسطین کی سرزمین وہ جگہ ہے جہاں بچے کھلونوں کے بجائے پتھروں سے کھیلتے ہیں، جہاں سکول کی گھنٹیاں بموں کی گونج میں دب جاتی ہیں اور جہاں انسانوں کی جان ایک معمولی شے بن چکی ہے۔ یہاں زیتون کے درختوں کی جگہ قبرستانوں نے لے لی ہے۔ اس زمین پر امن کا خواب دیکھنا شاید مشکل ہو مگر ناممکن نہیں۔۔۔
دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ جب قوموں نے اپنی آزادی کے لیے قربانیاں دی ہیں، تو آزادی انہیں ضرور ملی ہے۔۔۔ فلسطین کی عوام نے بھی اپنی آزادی کے لیے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ یہ قرارداد ان قربانیوں کی ایک تسلیم شدہ گواہی ہو سکتی ہے اگر دنیا اس کا ساتھ دے۔
یہ قرارداد ایک وعدہ ہے، ایک امید ہے مگر امید کو حقیقت بنانے کے لیے عمل کی ضرورت ہے۔ دنیا کے طاقتور ممالک، جو انسانیت کی قیادت کے دعوے دار ہیں، کیا وہ اس قرارداد کو صرف کاغذی الفاظ کی حد تک محدود رکھیں گے یا اس پر عملدرآمد کے لیے حقیقی اقدامات کریں گے؟
فلسطین کی آزادی صرف فلسطینی عوام کا حق نہیں، یہ انسانیت کی بقا کا سوال ہے۔ یہ سوال ہے کہ کیا ہم واقعی ایک ایسے دور میں رہ رہے ہیں جہاں انصاف ممکن ہے؟ یہ سوال ہے کہ کیا دنیا مظلوموں کا ساتھ دے گی یا صرف تماشائی بنی رہے گی؟
یہ قرارداد ایک امتحان ہے، انصاف کے نظام کا، دنیا کے ضمیر کا، اور انسانیت کے دعوے کا۔۔۔ فلسطینی عوام نے اپنی زمین کے لیے جو قربانیاں دی ہیں، وہ اس قرارداد سے کہیں زیادہ بڑی ہیں۔ ان کے خوابوں کی تعبیر صرف قراردادوں سے نہیں بلکہ حقیقی انصاف سے ممکن ہے۔
مگر یاد رکھیے، تبدیلی راتوں رات نہیں آتی بلکہ وقت لگتا ہے۔۔۔