اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی بجٹ 2025-26 کی تیاری کے سلسلے میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں نجی شعبے سے تعلق رکھنے والے ممتاز کاروباری شخصیات اور ماہرین سے بجٹ پر مشاورت کی گئی۔
وزیراعظم نے آئندہ مالی سال کے بجٹ کو عام آدمی کو ریلیف دینے، پائیدار ترقی اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے والا بجٹ قرار دیتے ہوئے متعدد اہم ہدایات جاری کیں۔وزیراعظم نے کہا کہ حکومت اور نجی شعبہ ملک کی ترقی و خوشحالی کے لیے شراکت دار ہیں اور آئندہ بجٹ میں غریب اور متوسط طبقے کی مالی مشکلات کو کم کرنے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔ وزیراعظم نے برآمدات پر مبنی ترقی، صنعتی ترقی، پیشہ ورانہ تربیت، اور ڈیجیٹل سہولیات کو ترجیحات میں شامل کرنے کی ہدایت دی۔شہباز شریف نے اجلاس میں زور دیا کہ بجٹ میں نئی ملازمتوں کے مواقع پیدا کیے جائیں اور زراعت، آئی ٹی، ایس ایم ایز، اور ہاؤسنگ سیکٹرز کو بھرپور توجہ دی جائے۔ انہوں نے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے فروغ، صنعتی بجلی نرخوں میں کمی، اور حکومتی نظام میں شفافیت کے لیے آٹومیشن اور ڈیجیٹائزیشن کو ترجیح دینے کی بھی ہدایت کی۔ وزیراعظم نے بتایا کہ "رائٹ سائزنگ" کا عمل آئندہ سال بھی جاری رہے گا تاکہ حکومتی اخراجات میں کمی لائی جا سکے۔
اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ بجٹ کی تیاری کے حوالے سے گزشتہ تین ماہ کے دوران مختلف معاشی شعبوں کے اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کی گئی ہے، جبکہ پانچ سالہ ٹریڈ پالیسی فریم ورک (2025-2030) اور ای-کامرس 2.0 فریم ورک جلد مکمل کر لیے جائیں گے۔ ساتھ ہی، ٹیرف ریشنلائزیشن کا لائحہ عمل بھی زیر تکمیل ہے۔کاروباری برادری نے حکومتی معاشی پالیسیوں پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے متعدد قابل عمل تجاویز پیش کیں جنہیں وزیراعظم نے سراہتے ہوئے بجٹ کا حصہ بنانے کی ہدایت کی۔اجلاس میں وفاقی وزراء احسن اقبال، احد چیمہ، محمد اورنگزیب، جام کمال، شزا فاطمہ، اویس لغاری، علی پرویز ملک اور وزیراعظم کے معاون خصوصی ہارون اختر سمیت اعلیٰ سرکاری افسران شریک تھے۔