پہلگام فالس فلیگ آپریشن: ڈی جی آئی ایس پی آر کی 30 اپریل 2025 کی بریفنگ کے کلیدی نکات

پہلگام فالس فلیگ آپریشن: ڈی جی آئی ایس پی آر کی 30 اپریل 2025 کی بریفنگ کے کلیدی نکات

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے 30 اپریل 2025 کو ایک بریفنگ کے دوران پہلگام فالس فلیگ سے متعلق تفصیلی مؤقف پیش کیا تھا، جس میں انہوں نے واقعے کے مختلف پہلوؤں پر سوالات اٹھاتے ہوئے بھارتی دعوؤں کو چیلنج کیا۔

بریفنگ میں لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا کہ اگر الزام یہ ہے کہ یہ واقعہ پاکستان کی سرزمین سے منصوبہ بندی کے بعد کیا گیا تو زمینی حقائق اس سے مطابقت نہیں رکھتے، کیونکہ پہلگام کا علاقہ پاکستانی حدود سے کافی فاصلے پر ہے اور وہاں تک رسائی بھی جغرافیائی طور پر مشکل ہے۔انہوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ جائے وقوعہ سے قریبی پولیس اسٹیشن تک پہنچنے میں وقت لگتا ہے، اس لیے محض چند منٹوں میں پولیس کی آمد اور رپورٹ کا تیار ہونا سوالات کو جنم دیتا ہے۔ ان کے مطابق واقعے کے فوراً بعد بغیر کسی تحقیق کے الزامات سامنے آنا بھی شکوک پیدا کرتا ہے۔لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا کہ بعض حلقوں کی جانب سے اس واقعے کو مذہبی رنگ دینے کی کوشش کی گئی اور یہ تاثر دیا گیا کہ مخصوص مذہب کے افراد کو نشانہ بنایا گیا، تاہم ان کا مؤقف تھا کہ دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں ہوتا اور اسے کسی مخصوص عقیدے سے جوڑنا درست نہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ واقعے کے فوراً بعد سوشل میڈیا پر مخصوص اکاؤنٹس اور ذرائع کی جانب سے پاکستان پر الزام تراشی شروع کر دی گئی، جو ان کے مطابق ایک پہلے سے طے شدہ بیانیے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے اپنے بیان میں زور دیا کہ پاکستان کا مؤقف حقائق اور شواہد پر مبنی ہے، اور انہوں نے بھارتی مؤقف کو سوالات کی روشنی میں تنقیدی انداز میں پیش کیا۔