عراقی حکومت کا کرپشن کے خلاف بڑے پیمانے پر مہم کا اعلان، افسران کے گرد گھیرا تنگ

عراقی حکومت کا کرپشن کے خلاف بڑے پیمانے پر مہم کا اعلان، افسران کے گرد گھیرا تنگ

عراقی وزیراعظم محمد شیعہ السوڈانی نے ملک میں بدعنوانی کے خاتمے کے لیے بڑے پیمانے پر کارروائی کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت عوامی خزانے کے تحفظ اور کرپشن میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کے لیے پرعزم ہے۔

وزیراعظم السوڈانی نے دیانتداری، نگرانی اور احتساب سے متعلق ایک اہم اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ قومی وسائل کو نقصان پہنچانے والوں کے لیے کوئی رعایت نہیں ہوگی۔ انہوں نے واضح کیا کہ بدعنوانی کے خلاف کارروائی میں کسی عہدے، سیاسی اثر و رسوخ یا طاقت کو آڑے نہیں آنے دیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ عوامی پیسوں کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اور کرپشن کے خاتمے کے لیے تمام ریاستی اداروں کو مؤثر کردار ادا کرنا ہوگا۔ ان کے مطابق مالی بدعنوانی نہ صرف ملکی معیشت کو نقصان پہنچاتی ہے بلکہ عوام کے ریاستی اداروں پر اعتماد کو بھی متاثر کرتی ہے۔عراقی وزیراعظم نے احتسابی اور عدالتی اداروں کو ہدایت کی کہ مالی غبن، سرکاری فنڈز کے غلط استعمال اور انتظامی بدعنوانی میں ملوث افراد کے خلاف کارروائیاں جاری رکھی جائیں۔ انہوں نے زور دیا کہ قانون سب کے لیے برابر ہونا چاہیے اور کسی بھی شخص کو اس کے عہدے یا تعلقات کی بنیاد پر تحفظ نہیں دیا جائے گا۔السوڈانی نے کہا کہ حکومت چوری شدہ قومی دولت کی واپسی کے لیے اقدامات تیز کرے گی اور ایسے تمام افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا جو ریاستی وسائل کو نقصان پہنچانے میں ملوث پائے جائیں گے۔

 انہوں نے شفافیت، نگرانی کے نظام کی مضبوطی اور ادارہ جاتی اصلاحات کو ملک کی ترقی کے لیے ضروری قرار دیا۔عراق طویل عرصے سے بدعنوانی کے مسائل کا سامنا کر رہا ہے، جہاں سرکاری اداروں میں مالی بے ضابطگیوں، اختیارات کے غلط استعمال اور عوامی فنڈز کے ضیاع کے الزامات سامنے آتے رہے ہیں۔ اسی پس منظر میں حکومت کی جانب سے کرپشن کے خلاف سخت اقدامات کو اہم قرار دیا جا رہا ہے۔وزیراعظم السوڈانی کا کہنا تھا کہ بدعنوانی کے خلاف جنگ صرف ایک سرکاری مہم نہیں بلکہ قومی ذمہ داری ہے، جس کے ذریعے قانون کی حکمرانی کو مضبوط اور عوام کا اعتماد بحال کیا جا سکتا ہے۔