وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات عطاء اللّٰہ تارڑ نے کہا ہے کہ جو چند کوڑیوں کی خاطر ایک مسلمان کا خون بہائے، اس کا نہ کوئی دین ہے اور نہ ایمان۔ اسلام آباد میں پیش آنے والے خودکش حملے کے ذمہ دار انسان کہلانے کے بھی حقدار نہیں، ایسے عناصر انسانیت پر دھبہ ہیں۔
لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے عطاء اللّٰہ تارڑ نے کہا کہ دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں ہوتا، دہشت گردوں کا مقصد صرف خوف اور عدم استحکام پھیلانا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مساجد، امام بارگاہوں اور دیگر عبادت گاہوں کی سیکیورٹی کے لیے بھرپور اور مؤثر اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ شہریوں کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت کا اصل ہدف دہشت گردی کا جڑ سے خاتمہ ہے اور سیکیورٹی اداروں نے دہشت گردوں کے گرد گھیرا تنگ کر دیا ہے۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ دہشت گردی اور شدت پسندی کو ہر صورت ختم کیا جائے گا اور دہشت گردوں کا ہر جگہ تعاقب کیا جائے گا۔عطاء اللّٰہ تارڑ کا کہنا تھا کہ حکومت امن کا پیغام لے کر آگے بڑھ رہی ہے، ملک میں فرقہ واریت اور نفرت کی کوئی گنجائش نہیں۔ پیغامِ امن کمیٹی میں تمام مکاتبِ فکر کے علمائے کرام شامل ہیں جبکہ ہندو، مسیحی اور سکھ برادری کی نمائندگی بھی اس کمیٹی میں موجود ہے، جو قومی یکجہتی کی علامت ہے۔
انہوں نے کہا کہ تحقیقات سے یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ خودکش حملہ آور افغانستان گیا تھا اور اس حملے کے پس پردہ عناصر کی نشاندہی کی جا چکی ہے۔ حکومت دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کرے گی اور کسی کو بھی رعایت نہیں دی جائے گی۔وفاقی وزیر نے بتایا کہ اسپتالوں میں زخمیوں کو بہترین طبی سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں اور حکومت تمام متاثرہ خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پورا ملک اس سانحے پر سوگوار ہے اور شہداء کے لواحقین کے دکھ میں برابر کا شریک ہے۔عطاء اللّٰہ تارڑ نے مزید کہا کہ دہشت گرد عموماً سافٹ ٹارگٹس کو نشانہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں، تاہم اس واقعے میں ملوث ہینڈلرز کی نشاندہی ہو چکی ہے اور انہیں نشانِ عبرت بنایا جائے گا۔ خودکش دہشت گرد کی شناخت مکمل ہو چکی ہے اور اسی بنیاد پر تحقیقات کو مزید آگے بڑھایا جا رہا ہے۔