حیدرآباد: سندھ کے شہر حیدرآباد میں آٹے کی قیمتوں میں مسلسل اور غیر معمولی اضافے نے شہریوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے، جبکہ کراچی میں بھی آٹا مہنگائی کے نئے ریکارڈ قائم کر رہا ہے۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق شہر میں گندم اور آٹے کی قیمتوں میں مسلسل من مانا اضافہ جاری ہے، جس کے باعث شہری شدید پریشانی کا شکار ہیں۔ عوام کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کی جانب سے قیمتوں پر قابو پانے اور صارفین کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے مؤثر اقدامات نظر نہیں آ رہے۔رپورٹ کے مطابق حیدرآباد میں آٹے کی قیمت 145 روپے فی کلوگرام تک پہنچ چکی ہے، جبکہ 20 کلو آٹے کا تھیلا 2 ہزار 900 روپے سے تجاوز کر گیا ہے۔ مہنگائی کی موجودہ لہر میں روزمرہ استعمال کی اس بنیادی ضرورت کی قیمت میں اضافے نے متوسط اور کم آمدنی والے طبقے کے لیے روٹی کا حصول بھی مشکل بنا دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق محکمہ خوراک کی جانب سے گندم کی خریداری کے اہداف مکمل نہ ہونے اور بعض عناصر کی مبینہ ذخیرہ اندوزی کے باعث مصنوعی قلت پیدا ہو گئی ہے، جس کے نتیجے میں گندم اور آٹے کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔شہریوں نے حکومت سندھ اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کے خلاف فوری کارروائی کرتے ہوئے آٹے کی قیمتوں کو کنٹرول کیا جائے تاکہ عوام کو مزید معاشی دباؤ سے بچایا جا سکے۔