اسلام آباد: رواں مالی سال 2026-27 کے پہلے ماہ جولائی 2026 میں ملک میں مہنگائی کی رفتار میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
وفاقی ادارہ شماریات کی تازہ رپورٹ کے مطابق ماہانہ بنیاد پر مہنگائی میں 1.2 فیصد جبکہ سالانہ بنیاد پر 5.1 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ ٹماٹر، چکن، انڈے اور دیگر اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔رپورٹ کے مطابق جولائی کے دوران ٹماٹر کی قیمت میں 116 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے باعث یہ سبزی مہنگائی کی فہرست میں سرفہرست رہی۔ اسی عرصے میں زندہ برائلر چکن 19 فیصد، پیاز 20 فیصد، سبزیاں 22 فیصد اور انڈے 14.3 فیصد مہنگے ہوئے، جبکہ آٹے کی قیمت میں 6.75 فیصد اور گندم میں 7.42 فیصد اضافہ ہوا۔ادارہ شماریات کے مطابق چائے کی قیمت میں بھی 3.5 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ بیکری آئٹمز، چاول، گڑ، خشک دودھ اور تازہ دودھ بھی مہنگے ہو گئے۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ توانائی اور خوراک کو نکال کر (کور انفلیشن) سالانہ بنیاد پر 8.6 فیصد تک پہنچ گئی، جو گزشتہ مدت کے مقابلے میں 7 فیصد اضافے کو ظاہر کرتی ہے۔علاقائی اعداد و شمار کے مطابق جولائی میں شہری علاقوں میں مہنگائی 8.7 فیصد جبکہ دیہی علاقوں میں 9.9 فیصد ریکارڈ کی گئی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دیہی آبادی پر مہنگائی کا بوجھ نسبتاً زیادہ رہا۔
رہائشی اخراجات میں بھی اضافہ دیکھا گیا۔ رپورٹ کے مطابق گھروں کے کرایے 1.48 فیصد بڑھ گئے، جبکہ ہاؤسنگ، پانی، بجلی، گیس اور ایندھن کے اخراجات میں مجموعی طور پر 7.14 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اسی طرح ادویات 2 فیصد اور رہائشی سہولیات 3.16 فیصد مہنگی ہوئیں۔سالانہ بنیاد پر خوراک کی قیمتوں میں 10.64 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ جلد خراب ہونے والی اشیائے خورونوش 5.8 فیصد مہنگی ہوئیں۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ 15 فیصد، کپڑے اور جوتے 9.18 فیصد، تعلیم 9 فیصد اور صحت کی سہولیات 7.80 فیصد مہنگی ہو گئیں، جس سے شہریوں کی زندگی پر مہنگائی کا دباؤ مزید بڑھ گیا۔