پاکستان میں آئل سپلائی چین کو ڈیجیٹل بنانے کے عمل کا دوسرا مرحلہ شروع کر دیا گیا ہے۔
اس اقدام کا مقصد ایندھن کی ترسیل کو مؤثر، شفاف اور اسمگلنگ سے پاک بنانا ہے۔
تفصیلات:
آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کی جانب سے جاری اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ ادارے نے ایک جامع ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم تیار کر لیا ہے، جو کہ پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ (PITB) کے تعاون سے متعارف کرایا گیا ہے۔
نظام کی خصوصیات:
ای آر پی پلیٹ فارمز (ERP Platforms)
جی پی ایس ٹریکنگ سسٹمز
مرکزی مانیٹرنگ ڈیش بورڈز
اوگرا کے ترجمان عمران غزنوی کے مطابق، اس وقت تک 29 سے زائد آئل مارکیٹنگ کمپنیاں (OMCs) ای آر پی سسٹمز پر منتقل کی جا چکی ہیں، جبکہ تقریباً 15,000 آئل ٹینکرز کو جی پی ایس ٹریکرز سے لیس کر دیا گیا ہے۔
مقاصد:
ایندھن کی ترسیل کی بروقت نگرانی
غیر قانونی اسمگلنگ کی روک تھام
نظام میں شفافیت اور مؤثریت کی بہتری
حادثات یا چوری کی صورت میں ریئل ٹائم رسپانس
پس منظر:
یہ سسٹم آئل سپلائی کے ہر مرحلے کی ڈیجیٹل مانیٹرنگ کی سہولت فراہم کرے گا، جس سے نہ صرف قومی خزانے کو نقصان سے بچایا جا سکے گا بلکہ ایندھن کے استعمال، خرید و فروخت، نقل و حمل، اور اسٹوریج پر بھی نگاہ رکھی جا سکے گی۔