راولپنڈی کی احتساب عدالت نے سابق وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہٰی کے خلاف تخت پڑی جنگلات کی 6 ہزار کنال اراضی میں مبینہ خورد برد کے ریفرنس کی سماعت کے دوران ان کے وارنٹ گرفتاری منسوخ کر دیے۔
عدالت میں کیا ہوا؟
احتساب عدالت کے جج شیخ اعجاز علی نے کیس کی سماعت کی۔ چوہدری پرویز الہٰی کے وکلاء نے عدالت میں پیش ہو کر مؤقف اختیار کیا کہ:نیب ریفرنس کی قانونی حیثیت ہی مشکوک ہے کیونکہ اس پر نہ تو چیئرمین نیب کے دستخط موجود ہیں اور نہ ہی تاریخ درج ہے۔ان کے مطابق ریفرنس اس بنیاد پر قابل سماعت نہیں بنتا۔
نیب کا مؤقف:
نیب پراسیکیوٹر سردار مظفر عباسی نے مؤقف اختیار کیا کہ:ریفرنس پر چیئرمین نیب کے دستخط موجود ہیں اور ریفرنس قانونی ضوابط کے مطابق بنایا گیا ہے۔
وکلا کا جواب:
پرویز الہٰی کے وکیل قاضی مصباح نے عدالت سے کہا کہ اگر دستخط موجود ہیں تو نیب کو دکھانا چاہیے، لیکن اب تک وہ ثبوت کے طور پر پیش نہیں کیے گئے۔
اہم عدالتی احکامات:
عدالت نے چوہدری پرویز الہٰی کی حاضری یقینی بنانے کی ہدایت کی۔ان کے وارنٹ گرفتاری منسوخ کرتے ہوئے انہیں آئندہ سماعت پر ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دیا۔کیس کی مزید سماعت 17 جولائی تک ملتوی کر دی گئی۔