ویب ڈیسک : بھارت اور پاکستان میں آوارہ اور پالتو کتوں کے حملے ایک خطرناک مسئلہ بنتے جا رہے ہیں۔ حالیہ دنوں میں دونوں ممالک میں معصوم بچوں پر حملوں کے دل دہلا دینے والے واقعات نے عوامی غصے اور تشویش کو جنم دیا ہے۔
اترپردیش، بھارت: آوارہ کتوں کا 5 سالہ بچے پر حملہ
بھارتی ریاست اتر پردیش کے شہر ’کاسیا‘ کے وارڈ نمبر 26 میں گزشتہ روز ایک 5 سالہ بچے پر آوارہ کتوں نے حملہ کر دیا۔ واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج نے دل دہلا دینے والے مناظر محفوظ کیے جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ بچے کو کتوں کا ایک گروہ گھر کے گیٹ سے گھسیٹ کر سڑک پر لے گیا اور اُسے بری طرح کاٹنا شروع کر دیا۔خاتون رہائشی نے جب کیمرے میں یہ منظر دیکھا تو فوراً بچے کو بچانے کے لیے باہر دوڑی، تاہم تب تک بچے کے جسم پر 18 سے زائد زخم آ چکے تھے۔ بچے کو فوری طور پر اسپتال منتقل کر دیا گیا جہاں اس کی حالت خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے۔یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوئی اور بھارتی صارفین کی جانب سے شدید ردعمل دیکھنے میں آیا۔ عوام کی جانب سے مقامی انتظامیہ سے آوارہ کتوں کے خلاف فوری کارروائی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
لاہور، پاکستان: پالتو کتے کا 4 سالہ بچے پر حملہ
اسی طرح کا ایک اور واقعہ گزشتہ روز لاہور کے علاقے شاہ جمال کالونی میں پیش آیا، جہاں 4 سالہ محمد فواد پالتو کتے کے حملے میں شدید زخمی ہو گیا۔ والد زیب خان کے مطابق بچہ معمولی چیز لینے گھر سے باہر نکلا تو کتے نے اچانک حملہ کر دیا۔فواد کے جسم پر گردن، چھاتی اور کمر پر گہرے زخم آئے۔ اہلِ علاقہ نے بروقت مداخلت کرتے ہوئے بچے کی جان بچائی۔ زخمی بچے کو اسپتال منتقل کیا گیا جبکہ والد کی مدعیت میں تھانہ اچھرہ میں کتے کے مالک کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
سوشل میڈیا پر شدید ردعمل اور والدین سے اپیل
دونوں واقعات کے بعد سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ صارفین والدین سے اپنے بچوں کی حفاظت کے لیے مزید محتاط رہنے کی اپیل کر رہے ہیں اور حکام پر زور دے رہے ہیں کہ آوارہ کتوں کی روک تھام، پالتو جانوروں کی رجسٹریشن اور مالکان کی جوابدہی کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں۔
ماہرین کی رائے
ماہرین صحت و بلدیاتی امور کے مطابق:آوارہ کتوں کی بڑھتی تعداد شہری صحت عامہ کے لیے خطرہ بن چکی ہے۔بچوں پر حملوں کے بعد ریبیز ویکسینیشن اور فوری طبی امداد انتہائی ضروری ہے۔حکومت کو چاہیے کہ وہ بلدیاتی اداروں کو فعال اور ذمہ دار بنائے تاکہ ایسی صورتحال سے بچا جا سکے۔