پاکستان کو خالہ جی کا گھر نہ سمجھا جائے، افغانوں کو ڈی پورٹ کرنا چاہیے خواجہ آصف

بھارت اور ایران کیساتھ جس طرح بارڈر ہے ، ویسا افغانستان کیساتھ ہونا چاہیے ‘ کبھی  نہیں چاہیں گے  پڑوسی ممالک میں حالات خراب ہوں 
 روس کی طرح افغان حکومت کو قبول کرنے کا وزیراعظم یا وزیر خارجہ بتا سکتے ہیں،ہم اپنا قومی مفاد دیکھیں گے‘مستحکم پاکستان سے تمام ممالک کو فائدہ ہوگا
اسلام آباد(آئی این پی ) وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے پاکستان کو خالہ جی کا گھر نہ سمجھا جائے، افغانوں کو ڈی پورٹ کرنا چاہیے،بھارت اور ایران کیساتھ جس طرح بارڈر ہے ، ویسا افغانستان کیساتھ ہونا چاہیے ۔ ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا افغانستان کیساتھ ہمارے تعلقات ہیں، سفارتخانہ موجود ہے، افغانستان کیساتھ ہمارے ڈپلومیٹک تعلقات موجودہیں، افغانستان کا دورہ بھی بطوروزیردفاع کیا، معمول کے تعلقات ہیں۔وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ یہ درست ہے افغان حکومت کواب تک قبول نہیں کیا گیا، روس کی طرح افغان حکومت کو قبول کرنے کا وزیراعظم یا وزیر خارجہ بتا سکتے ہیں۔انھوں نے کہا کہ پاکستان کا امن اس خطے کے امن کیساتھ جڑا ہوا ہے، پاکستان کے اچھے حالات کا تعلق براہ راست افغانستان کیساتھ ہے، پاکستان معاشی طور پر مستحکم ہوگا تو خطے کے تمام ممالک کوفائدہ ہوگا، ہم کبھی بھی نہیں چاہیں گے کہ پڑوسی ممالک میں حالات خراب ہوں ، کبھی نہیں چاہیں گے افغانستان میں امن وامان کی صورتحال خراب ہو۔