جرمن صدر فرینک والٹر اسٹین نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی خارجہ پالیسیوں پر سخت تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ امریکا کی موجودہ پالیسی دنیا کے قائم شدہ عالمی نظام کو نقصان پہنچا رہی ہے۔
انہوں نے بیان میں کہا کہ روس کا کرائمیا الحاق اور یوکرین پر حملہ بین الاقوامی قوانین اور جمہورتی اقدار کے لیے خطرہ ہیں، اور اب امریکا کی حالیہ پالیسی نے عالمی اقدار اور جمہوریت کو مزید خطرے میں ڈال دیا ہے۔ اسٹین نے خبردار کیا کہ اگر عالمی قوانین اور اتحادی نظام مضبوط نہ رکھا گیا تو طاقتور ممالک چھوٹے ممالک پر اپنی مرضی مسلط کر دیں گے۔جرمن صدر کے موقف کے مطابق، امریکا کی پالیسی دنیا کو "لٹیروں کے ٹھکانے میں تبدیل" کر رہی ہے، اور بین الاقوامی نظام کی حفاظت ضروری ہے۔اس موقع پر ایک سروے میں بھی یہ بات سامنے آئی کہ جرمن عوام میں امریکا کو قابل اعتماد اتحادی سمجھنے والے افراد کی تعداد میں کمی واقع ہوئی ہے۔
اس سے قبل، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ دنیا بھر کے ممالک پر فوجی حملے یا جارحیت کا مکمل اختیار رکھتے ہیں اور بحیثیت کمانڈر اِن چیف اپنے اختیارات کی حد کا فیصلہ خود کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہیں روکنے والی صرف ان کی اپنی اخلاقیات اور دماغ ہے۔یہ تنقید عالمی سیاست میں امریکا اور یورپی اتحادیوں کے درمیان پیدا ہونے والے اختلافات کی عکاسی کرتی ہے اور بین الاقوامی سطح پر امریکا کی خارجہ پالیسی پر سوالات بڑھا رہی ہے۔