لاہور: تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے نواز شریف کے بارے میں کھل کر بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ نواز شریف کے دوست ہیں، لیکن انہیں یہ بات سمجھنی چاہیے کہ وہ غلط راستے پر ہیں۔
لاہور میں میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ نواز شریف کو گھر میں اپنی اہلیہ، بیٹی اور بچوں کے سامنے اس حقیقت کا سامنا کرنا ہوگا کہ وہ الیکشن ہار چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی عوام نے تحریک انصاف کو منتخب کر کے ایک تاریخی فیصلہ دیا، حالانکہ اس وقت تحریک انصاف کے پاس اپنا انتخابی نشان بھی نہیں تھا۔محمود خان اچکزئی نے واضح کیا کہ ان کا نہ تو شہباز شریف سے جھگڑا ہے اور نہ ہی نواز شریف سے، اور نہ ہی فوج یا دیگر اداروں سے کوئی ذاتی تصادم ہے۔ ان کے بقول، دنیا کی تمام فوجیں اپنے اپنے فریم میں کام کر رہی ہیں اور پاکستان میں بھی سب کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے تاکہ نظام متاثر نہ ہو۔انہوں نے اسٹبلشمنٹ کی تربیت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ طاقت اور دھونس سے کام نہیں چلے گا۔
ملک میں 46 فیصد لوگ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں، اور وسائل موجود ہونے کے باوجود اجتماعی عقل و دانش کے ذریعے مسائل حل کرنے کی ضرورت ہے۔سربراہ تحریک تحفظ آئین پاکستان نے کہا کہ قرآن معاشرے میں عدل و انصاف کی ضرورت کی تعلیم دیتا ہے، اور بے انصافی نفرت اور ظلم کو جنم دیتی ہے۔ ان کا موقف تھا کہ ملک کے عوام اور ادارے ظالم کے خلاف آواز اٹھائیں، اور اگر ساتھ نہیں دے سکتے تو کم از کم دعا کریں۔انہوں نے مزید کہا کہ ملک فوج کے بغیر نہیں چل سکتا، لیکن سب کو ایک فریم میں رہ کر کام کرنا چاہیے کیونکہ ہم سب ایک ہی قوم کے بھائی ہیں۔