شہباز شریف کی حکومت ملک کو خانہ جنگی کی طرف لے جارہی ہے:محمود خان اچکزئی

 شہباز شریف کی حکومت ملک کو خانہ جنگی کی طرف لے جارہی ہے:محمود خان اچکزئی

محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران حکومت کے خلاف سخت موقف اختیار کیا۔

 محمود خان اچکزئی نے کہا کہ شہباز شریف کی حکومت ملک کو جان بوجھ کر خانہ جنگی کی طرف لے جا رہی ہے اور اسے غیر آئینی اور غیر جمہوری قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں روزانہ کی بنیاد پر 20 سے 30 افراد قتل ہو رہے ہیں، قلم پر پابندیاں ہیں، اور اسمبلی میں اظہار رائے پر پابندی عائد کی گئی ہے۔اچکزئی نے مزید کہا کہ ان حالات میں آل پارٹیز کانفرنس کی ضرورت ہے جس میں فوج اور صحافیوں کو بھی مدعو کیا جائے تاکہ ملک کو خانہ جنگی سے بچایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو افغانستان کی کشمکش میں دھکیلنے کے بجائے امن قائم کرنے کی ضرورت ہے، اور افغانستان کو کشمکش کا گڑھ بنانے کے بجائے ایک امن کا گہوارہ بنایا جائے۔انہوں نے ملک میں معدنیات کی موجودگی کو بھی موضوع بنایا اور کہا کہ جہاں معدنیات ہیں، وہاں کی مقامی آبادی کو اس سے فائدہ پہنچنا چاہیے، اور اس بات پر زور دیا کہ ان علاقوں کے لوگوں کو بھی اس سے حصہ ملنا چاہیے۔ اچکزئی نے کہا کہ شہباز شریف کی حکومت قصداً ملک کو خانہ جنگی کی طرف لے جا رہی ہے۔

دوسری جانب علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے کہا کہ پاکستان کو آئین کے تحت چلایا جا سکتا ہے، اور موجودہ حکومت معاشی، اخلاقی اور سیاسی بحران میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ عدلیہ کو مفلوج کر دیا گیا ہے اور اس کے استقلال کو ختم کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے حکومتی اقدامات کو پاکستان کے آئین کے ڈھانچے سے کھیلنے کے مترادف قرار دیا اور کہا کہ اس حکومت کا ہر گزرتا دن مسائل میں اضافہ کر رہا ہے۔علامہ جعفری نے اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ پاکستان کی حکومت نے افغانستان کے ساتھ دشمنی کی فضا پیدا کی ہے، حالانکہ دونوں ممالک کا ثقافتی رشتہ ایک جیسا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بلاول بھٹو زرداری اور اسحاق ڈار نے افغانستان کا دورہ نہیں کیا اور اس کے بجائے دشمنی بڑھا رہے ہیں، جو پاکستان کے مفاد میں نہیں ہے۔