پنجاب کے سرکاری ہسپتال انٹرنیشنل معیار کے مطابق بنانے کا فیصلہ، وزیراعلیٰ مریم نواز کے بڑے اصلاحاتی اقدامات

پنجاب کے سرکاری ہسپتال انٹرنیشنل معیار کے مطابق بنانے کا فیصلہ، وزیراعلیٰ مریم نواز کے بڑے اصلاحاتی اقدامات

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے صوبے بھر کے سرکاری ہسپتالوں کو بین الاقوامی معیار کے مطابق بنانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ پنجاب کے سرکاری ہسپتال اب خلل، نااہلی، کام چوری، ادویات کی کمی اور عوامی شکایات سے پاک ہوں گے، اور ہر مریض کو جدید ترین معیاری ادویات فراہم کی جائیں گی۔

وزیراعلیٰ کی زیر صدارت اجلاس میں ہیلتھ پراجیکٹس کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا، جس میں سرکاری ہسپتالوں کے لیے نئی اور جدید میڈیسن لسٹ مرتب کرنے اور اس مقصد کے لیے خصوصی کمیٹی قائم کرنے کا حکم دیا گیا۔ اجلاس میں اس بات پر بھی اتفاق ہوا کہ دورانِ ڈیوٹی ڈاکٹرز اور نرسز کے موبائل فون استعمال پر پابندی عائد کی جائے گی تاکہ مریضوں پر مکمل توجہ دی جا سکے۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ہسپتالوں کے سیکیورٹی گارڈز، وارڈ بوائز، نرسنگ اور فارمیسی اسٹاف کو باڈی کیم لگائے جائیں گے، جبکہ ہر سرکاری ہسپتال میں روزانہ صبح 9 بجے تک مکمل اسٹیَم کلیننگ یقینی بنائی جائے گی۔وزیراعلیٰ نے ہسپتالوں کو جدید طبی آلات سے لیس کرنے کے لیے چینی ساختہ طبی آلات کی خریداری کی اجازت بھی دی۔ انہوں نے ہسپتالوں میں تعینات سیکیورٹی کمپنیوں اور گارڈز کے خلاف عوامی شکایات کا سخت نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ ہر مریض کو اس کی دوا بروقت اور براہِ راست فراہم کی جائے گی۔

اجلاس میں میڈیسن فراہمی کے فول پروف نظام، بہترین کارکردگی پر انعامات، ایم ایس پول کے قیام اور صرف کارکردگی کی بنیاد پر تنخواہیں بڑھانے کے فیصلے بھی کیے گئے۔ وزیراعلیٰ نے کمیونٹی ہیلتھ انسپکٹرز کو ہسپتالوں کے سروے کی ذمہ داری سونپنے اور عوامی فلاحی اقدامات کی افادیت جانچنے کے لیے ڈیٹا اینالیسز سینٹر قائم کرنے کی ہدایت دی۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ پنجاب میں دو سال سے کم عرصے میں 2500 سے زائد ڈاکٹرز کو روزگار فراہم کیا جا چکا ہے، جبکہ کارڈیک میڈیسن ہوم ڈیلیوری پروگرام کے تحت 5 لاکھ 85 ہزار مریض رجسٹرڈ ہو چکے ہیں۔ اسی طرح ہیپاٹائٹس اور ٹی بی کے 6 ہزار مریضوں کو گھروں کی دہلیز پر ادویات فراہم کی جا رہی ہیں۔

وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ حکومت ادویات کے لیے 80 ارب روپے فراہم کر رہی ہے، اس کے باوجود دوائیں نہ ملنا ناقابلِ فہم ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اب عوام کا وقت اور پیسہ ضائع نہیں ہوگا، اور نااہل و کام چور عناصر کے لیے سسٹم میں کوئی جگہ نہیں۔