بے نامی جائیداد میں گھر، پلاٹ، بنک اکاؤنٹ، گاڑی، کیش اور گولڈ شامل ہوں گے
بے نامی ٹرانزیکشن ایکٹ 2017ء کے تحت بے نامی جائیداد یا ٹرانزیکشن ایک قابل سزا جرم قرار
اسلام آباد (یواین پی) وفاقی حکومت کی جانب سے بے نامی جائیداد یا ٹرانزیکشن کو قابل سزا جرم قرار دیتے ہوئے بے نامی جائیداد کی نشاندہی پر نقد انعامات کا اعلان کردیا گیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ڈائریکٹوریٹ جنرل انسداد بے نامی اینیشیٹو کے ذرائع نے بتایا ہے کہ 20 لاکھ روپے تک کی بے نامی جائیداد کی نشاندہی پر جائیداد کی مالیت کا 5 فیصد اطلاع دینے والے کو دیا جائے گا، 20 لاکھ روپے سے 50 لاکھ روپے تک کی مالیت کی جائیداد پر ایک لاکھ روپے اور 20 لاکھ روپے سے اوپر کی مالیت پر 4 فیصد دیا جائے گا، 50 لاکھ روپے سے زائد کی مالیت کی جائیداد پر 2 لاکھ 20 ہزار روپے اور 50 لاکھ سے اوپر پر مالیت کا 3 فیصد دیا جائے گا۔بتایا جارہا ہے کہ بے نامی جائیداد اصل مالک کی بجائے کسی اور کے نام پر رکھی جاتی ہے، بے نامی جائیداد میں گھر، پلاٹ، بنک اکاؤنٹ، گاڑی، کیش اور گولڈ شامل ہے جو اصل مالک کی بجائے کسی دوسرے کے نام پر ہو، بے نامی جائیداد کا اصل مقصد اصل مالک کو ٹیکس سے بچانا اور ناجائز دولت کو کور فراہم کرنا ہے، اس کے علاوہ بیوی بچوں کے نام پر رکھے جانے والی جائیداد یا اثاثے بھی بے نام ہوسکتے ہیں