مریم وٹو نے اپنے بیان میں واضح طور پر کہا ہے کہ بشریٰ بی بی اپنے شوہر اور بانی پی ٹی آئی کو دھوکہ دینے کا تصور بھی نہیں کر سکتی ہیں۔
انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں بتایا کہ 8 ہفتوں سے خاندان کے افراد کو بشریٰ بی بی سے ملنے کی اجازت نہیں دی جا رہی، حتیٰ کہ وکلاء کو بھی ملاقات کا موقع نہیں ملا، اور ہمارے پاس بشریٰ بی بی سے متعلق کوئی تازہ خبر نہیں ہے۔مریم وٹو نے الزام عائد کیا کہ کچھ ٹویٹس کے ذریعے یہ تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ وہ بانی پی ٹی آئی کو دھوکہ دے کر اپنی بہن کو باہر لانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے خلاف ایک من گھڑت اور ہولناک منصوبہ بنایا جا رہا ہے، اور ان لوگوں کی سچائی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ لوگ کس طرح اتنا جھوٹ بول سکتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ بشریٰ بی بی نے خود اپنے آپ کو بنی گالہ سے جیل منتقل کرنے کا فیصلہ کیا، اور پہلے بھی انہوں نے بہادری سے اپنا موقف پیش کیا اور دوسری بار خود جیل گئیں۔
اگر بشریٰ بی بی کو بانی پی ٹی آئی کو دھوکہ دینا ہوتا، تو وہ پہلے ہی اپنی گرفتاری سے قبل ایسا کر سکتی تھیں، کیونکہ ان کے پاس یہ موقع موجود تھا۔مریم وٹو نے اس بات پر زور دیا کہ انہوں نے پہلے بھی اپنے انٹرویوز میں کہا ہے کہ انہوں نے بشریٰ بی بی سے درخواست کی تھی کہ وہ ہمارے پاس آجائیں کیونکہ امی بھی وہاں ہیں اور بانی پی ٹی آئی کی گرفتاری کے بعد وہ اکیلی ہیں، مگر بشریٰ بی بی نے جواب دیا کہ اگر انہوں نے پاکستان چھوڑا تو لوگ کہیں گے کہ انہوں نے اپنے شوہر کو چھوڑ دیا ہے، جس کی وجہ سے وہ کبھی بھی انہیں اکیلا نہیں چھوڑ سکتیں۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ بشریٰ بی بی اپنے شوہر کو دھوکہ دینے کا سوچ بھی نہیں سکتیں، اور ان شاء اللّٰہ، دونوں ہمیشہ ساتھ رہیں گے۔