ایران کی عسکری حکمتِ عملی میں بڑی تبدیلی، ’’جارحانہ نظریے‘‘ کا اعلان

ایران کی عسکری حکمتِ عملی میں بڑی تبدیلی، ’’جارحانہ نظریے‘‘ کا اعلان

ایران کی فوج کے اسٹریٹجک اسٹڈیز اینڈ ریسرچ سینٹر کے سربراہ جنرل احمد رضا پوردستان نے کہا ہے کہ ملک کی عسکری حکمتِ عملی اب روایتی دفاعی پالیسی سے نکل کر ایک جارحانہ نظریے میں داخل ہو چکی ہے۔

ایرانی خبر رساں اداروں کے مطابق جنرل پوردستان نے کہا کہ نئے عسکری نظریے کے تحت پیشگی کارروائیوں کی بھی گنجائش موجود ہے، اور اگر قومی مفاد کا تقاضا ہوا تو ایران نامعلوم محاذوں پر کارروائی کرتے ہوئے دشمن کو غیر متوقع طور پر حیران کر سکتا ہے۔ اس مؤقف کی بازگشت حالیہ مہینوں میں ایرانی عسکری بیانات میں بھی سنائی دی ہے، جہاں ایران کی دفاعی حکمتِ عملی کو ’’دفاعی‘‘ سے ’’جارحانہ‘‘ انداز میں تبدیل ہونے کا عندیہ دیا گیا۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کی مسلح افواج نے ابھی تک اپنی تمام عسکری صلاحیتیں استعمال نہیں کیں اور ملک کے پاس مزید قابلِ ذکر دفاعی و عسکری وسائل موجود ہیں۔ ایرانی حکام اس سے پہلے بھی یہ مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں کہ اگر ایران کے خلاف دوبارہ جارحیت ہوئی تو اس کا ردِعمل ماضی سے مختلف، وسیع اور زیادہ سخت ہو سکتا ہے۔جنرل پوردستان نے لبنان کے عوام کے دفاع کے لیے بھی ایران کی مکمل تیاری کا اظہار کیا۔ ماہرین کے مطابق یہ بیان اس وسیع تر علاقائی پالیسی کا حصہ معلوم ہوتا ہے جس میں تہران اپنے اتحادیوں اور خطے میں موجود اثر و رسوخ کے دفاع کو اپنی نئی عسکری حکمتِ عملی سے جوڑ رہا ہے۔

حالیہ تجزیاتی رپورٹس میں بھی یہ نکتہ سامنے آیا ہے کہ ایران اب اپنی مزاحمتی اتحادی صف بندی کے خلاف حملوں کو براہِ راست اپنے لیے تزویراتی چیلنج تصور کر رہا ہے۔ماضی میں ایران کے رہبرِ اعلیٰ علی خامنہ ای کے دور میں ملکی فوجی پالیسی کو اسٹریٹجک صبر کہا جاتا تھا، جس کا مقصد براہِ راست تصادم سے گریز کرتے ہوئے محدود اور حساب شدہ ردِعمل کے ذریعے دشمن کو باز رکھنا تھا۔تاہم ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان حالیہ کشیدگی کے بعد تہران کی جانب سے یہ اشارہ دیا جا رہا ہے کہ اب ملک فعال اور غیر معمولی دفاعی بازدار حکمتِ عملی پر عمل پیرا ہے، جس میں صرف ردِعمل نہیں بلکہ ضرورت پڑنے پر پیشگی اور غیر متوقع کارروائی بھی شامل ہو سکتی ہے۔