قومی حکومت میں موجودہ حکومت کی پھیلائی تباہی کا حصہ کیسے بن سکتے ہیں؟ مولانا سے ہمارا رابطہ ہے
اسلام آباد (بیورو رپورٹ) پی ٹی آئی علی محمد خان نے کہاہے کہ اگر مذاکرات کی بات چل پڑی ہے تو حکومت کو سنجیدگی کا اظہار کرنا چاہئے۔ایک انٹرویو میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے آرڈر پر بڑی سنجیدگی سے عملدرآمد کیا، ہائیکورٹ نے کہا تھا کہ احتجاج نہیں کرنا، لیکن ہمارا احتجاج پرامن تھا گولی چلانے کی ضرورت نہیں تھی، اس عدالتی حکم کا دوسرا حصہ تھا کہ پی ٹی آئی سے مذاکرات کریں ، لیکن اس پر کسی نے عمل نہیں کیا، ڈائیلا گ کیلئے ہمارے دو بنیادی نکات ہیں، لیکن جب مذاکرات شروع ہوتے ہیں تو کوئی نہ کوئی راستہ نکل آتا ہے۔انہوں نے کہا میں سمجھتا ہوں کہ مذاکراتی کمیٹی کے لوگ عوام میں بیانات کے بجائے کمیٹی پر فوکس کریں۔ عمران خان پر سیاسی کیسز ہیں اگر حکومت چاہے تو قیدیوں کی رہائی کرسکتی ہے، قیدیوں کی رہائی کا معاملہ حکومت کے پاس ہے۔ انہوں نے کہا قومی حکومت سے متعلق بات نہیں ہوئی، (ن) لیگ اور پیپلزپارٹی 1984سے حکومت میں ہیں، ان جماعتوں کی وجہ سے ہی کرپشن ہوئی، سپریم کورٹ کو چاہیے کہ الیکشن کا فیصلہ کرے، قومی حکومت کوئی حل نہیں ہے،قومی حکومت میں موجودہ حکومت میں ان کی پھیلائی تباہی کا حصہ کیسے بن سکتے ہیں؟ مولانا سے ہمارا رابطہ ہے، آئندہ کسی موقع پر ہماری تحریک اکٹھی بھی ہوسکتی ہے۔