ویب ڈیسک: سندھ اسمبلی نے ارکانِ اسمبلی کی تنخواہیں اور مراعات پنجاب اسمبلی کے برابر کرنے کا بل متفقہ طور پر منظور کرلیا۔
اس حوالے سے صوبائی وزیر قانون ضیا الحسن لنجار نے تنخواہوں اور الاؤنس میں اضافے کا بل ایوان میں پیش کیا، جسے مرحلہ وار منظوری دی گئی۔بل کی پیشکش پر تمام اراکین نے ڈیسک بجا کر حمایت کی، اور کہیں سے بھی مخالفت سامنے نہیں آئی۔ اسپیکر کی جانب سے تشکیل دی گئی اسپیشل کمیٹی تنخواہوں اور مراعات میں اضافے کی حتمی تفصیلات طے کرے گی۔
اہم نکات:
نئی تنخواہوں اور مراعات پر عملدرآمد یکم جولائی 2025 سے ہوگا۔وزیراعلیٰ، اسپیکر، ڈپٹی اسپیکر اور کابینہ کی تنخواہوں میں اضافہ نہیں ہوا۔اپوزیشن لیڈر کا اسٹیٹس صوبائی وزیر کے برابر ہوگیا۔
ارکان سندھ اسمبلی کی مجموعی پرانی تنخواہ 1 لاکھ 51 ہزار روپے تھی، جس میں بنیادی تنخواہ 50 ہزار، ہاؤس رینٹ 45 ہزار، ٹیلی فون الاؤنس 10 ہزار، آفس چارجز 15 ہزار، یوٹیلیٹی الاؤنس 15 ہزار، دیگر الاؤنس 15 ہزار اور کار الاؤنس 1 ہزار روپے شامل تھے۔ارکان سندھ اسمبلی کی تنخواہوں میں 190 فیصد اضافہ کیا گیا، جس کے بعد ان کی تنخواہ 4 لاکھ روپے ہوگئی، جو پنجاب اسمبلی ارکان کے برابر ہے۔
پنجاب اسمبلی میں حالیہ اضافے کا پس منظر:
ارکان پنجاب اسمبلی کی تنخواہیں 76 ہزار روپے سے بڑھا کر 4 لاکھ روپے کی گئی تھیں (500 فیصد اضافہ)۔صوبائی وزرا کی تنخواہ ایک لاکھ سے بڑھ کر 9 لاکھ 60 ہزار روپے، اسپیکر کی ایک لاکھ 25 ہزار سے بڑھ کر 9 لاکھ 50 ہزار روپے، ڈپٹی اسپیکر کی ایک لاکھ 20 ہزار سے بڑھ کر 7 لاکھ 75 ہزار روپے کردی گئی۔پارلیمانی سیکرٹریز کی تنخواہ 83 ہزار سے بڑھا کر 4 لاکھ 51 ہزار روپے، اور اسپیشل اسسٹنٹ کی تنخواہ ایک لاکھ سے بڑھا کر 6 لاکھ 65 ہزار روپے مقرر کی گئی۔